یوکرین، روس اور روسی زیر قبضہ علاقوں میں جاری شدید جھڑپوں اور حملوں کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ ہلاکت خیز واقعات ایک ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب چرنوبل جوہری حادثے کی 40 ویں برسی کے موقع پر ایٹمی تنصیبات کے قریب جاری فوجی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے خطرات پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
علاقائی سربراہ اولیکسینڈر ہانزہا کے مطابق یوکرین کے شہر دنیپرو میں روسی ڈرون اور میزائل حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد نو تک پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب روس کے زیر قبضہ کریمیا کے بندرگاہی شہر سیواستوپول میں یوکرینی ڈرون حملے میں ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے۔ ادھر لوہانسک ریجن میں ماسکو کے مقرر کردہ گورنر لیونڈ پاسیچنک نے بتایا ہے کہ یوکرینی ڈرون حملوں میں مزید تین افراد مارے گئے ہیں۔
روس کے سرحدی علاقے بیلگورود میں بھی یوکرینی ڈرون حملے میں ایک خاتون کی ہلاکت ہوئی ہے۔ یوکرینی فوج کے جنرل سٹاف نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے روس کے اندر یاروسلاول میں واقع ایک آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا جس سے وہاں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ یہ تنصیب سالانہ ڈیڑھ کروڑ ٹن تیل صاف کرتی ہے اور روسی فوج کو ایندھن فراہم کرتی ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے چرنوبل کی برسی پر خبردار کیا ہے کہ روس اپنی جارحیت کے ذریعے دنیا کو ایک اور انسان ساختہ تباہی کے دہانے پر لے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روسی اور ایرانی ساختہ ڈرونز کا پلانٹ کے اوپر سے گزرنا اور گزشتہ سال کنفائنمنٹ سٹرکچر پر حملہ ایٹمی دہشت گردی کے مترادف ہے۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کیف کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ پلانٹ کے حفاظتی خول کی مرمت فوری طور پر ضروری ہے۔ یورپی بینک برائے تعمیر و ترقی کے مطابق اس مرمت پر کم از کم 50 کروڑ یورو کی لاگت آئے گی۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ فروری 2025 میں روسی ڈرون نے ری ایکٹر نمبر 4 کے اوپر موجود حفاظتی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تھا، تاہم ماسکو نے اس الزام کو مسترد کیا ہے۔
دریں اثنا روسی وزیر دفاع آندرے بیلوف نے شمالی کوریا کا دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے کم جونگ ان سے ملاقات کی۔ روسی خبر رساں ادارے ریا نووستی کے مطابق دونوں ممالک نے فوجی تعاون کو طویل مدتی بنیادوں پر استوار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ملاقات کے دوران روسی وزیر دفاع نے کورسک ریجن میں خدمات انجام دینے والے شمالی کوریائی فوجیوں کو تمغہ جرات سے نوازا۔ شمالی کوریا کی جانب سے روس کو ہزاروں فوجی اور اسلحہ کی بڑی کھیپیں فراہم کی جا رہی ہیں۔
