-Advertisement-

اسلام آباد اور راولپنڈی میں ٹریفک بحال، حکام کی شہریوں کے صبر کی تعریف

تازہ ترین

ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان: ایٹمی مذاکرات کا کوئی ایجنڈا نہیں، ایرانی میڈیا

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک بار پھر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں جہاں وہ پاکستانی حکام کے ساتھ...
-Advertisement-

جڑواں شہروں میں ٹریفک کی روانی بحال کر دی گئی ہے اور انتظامیہ نے سکیورٹی کے پیش نظر عائد پابندیاں ختم کر دی ہیں۔ حکام نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہریوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی جانب سے صبر و تحمل کے مظاہرے کو سراہا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان متوقع امن مذاکرات کے تناظر میں گزشتہ کئی روز سے جڑواں شہروں میں سکیورٹی انتہائی سخت رکھی گئی تھی اور مختلف مقامات پر راستے بند کر دیے گئے تھے۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ سرینا ہوٹل اور ریڈ زون کے اطراف ٹریفک پر عائد پابندیاں آج سے ختم کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے عوام بالخصوص جڑواں شہروں کے رہائشیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تعاون سے ہی مہمانوں کی حفاظت اور علاقائی امن کے لیے کوششوں کو آگے بڑھانا ممکن ہوا۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ حکومت اپنے اہداف کے حصول کے لیے پرعزم ہے اور عوام کی نیک تمناؤں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اتوار کے روز انتظامیہ کی جانب سے جڑواں شہروں میں رکاوٹیں ہٹانے کا عمل جاری رہا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیراعظم شہباز شریف نے 25 اپریل کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا تھا۔ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور منسوخ ہونے کے بعد وزیراعظم نے پائیدار امن کے قیام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ اگر ایران مذاکرات کے ذریعے جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے تو وہ امریکہ سے رابطہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ بات کرنا چاہیں تو آ سکتے ہیں یا ٹیلی فون کر سکتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس محفوظ ذرائع موجود ہیں۔

دوسری جانب ہفتے کے روز امریکی صدر کی جانب سے اپنے ایلچیوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا دورہ پاکستان منسوخ کرنے سے امن کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔ یہ پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی اسلام آباد سے روانگی کے بعد سامنے آئی، جنہوں نے یہاں قیام کے دوران صرف پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -