اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے میں عرب ممالک کی سلامتی کی ضمانت لازمی ہونی چاہیے۔ عمان میں کویتی وزیر خارجہ جراح جابر الاحمد الصباح سے ملاقات کے دوران شاہ عبداللہ نے دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مشترکہ عرب اقدامات کو تیز کرنے پر زور دیا۔
شاہی دربار کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اردنی فرمانروا نے واضح کیا کہ خلیجی خطے کی سلامتی پورے خطے اور دنیا کے استحکام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور امریکا کے مابین کسی بھی تصفیے میں عرب ریاستوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔
خطے میں کشیدگی کا آغاز 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ کارروائی سے ہوا تھا، جس کے نتیجے میں 3300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے جواب میں تہران نے اسرائیل اور ان عرب ممالک کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا جہاں امریکی اثاثے موجود ہیں۔
دو ہفتے قبل اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، تاہم یہ بات چیت کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہی۔ یہ مذاکرات 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی دو ہفتے کی جنگ بندی کے بعد شروع ہوئے تھے، جس میں بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے توسیع کر دی تھی۔
اگرچہ مذاکرات کے ایک اور دور کے لیے کوششیں جاری ہیں، لیکن آبنائے ہرمز، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی اور ایران کا افزودہ یورینیم تاحال فریقین کے درمیان اہم تنازعات بنے ہوئے ہیں۔
