-Advertisement-

یورپی یونین کا گوگل کو اینڈرائیڈ پر حریف مصنوعی ذہانت کی خدمات کو رسائی دینے کا حکم

تازہ ترین

’دی ڈیول ویئر پراڈا‘: مرانڈا پرسٹلی کے کردار کے پیچھے چھپی حقیقت کا انکشاف

مشہور ہالی وڈ فلم دی ڈیول ویئر پراڈا کی اداکارہ ایملی بلنٹ نے انکشاف کیا ہے کہ سن دو...
-Advertisement-

یورپی یونین نے پیر کے روز گوگل کے لیے ایسے اقدامات تجویز کیے ہیں جن کا مقصد اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کو مسابقتی مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی سروسز کے لیے کھولنا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد صارفین کو یہ سہولت فراہم کرنا ہے کہ وہ اینڈرائیڈ ڈیوائسز پر اپنی پسند کی اے آئی سروسز استعمال کر سکیں، جیسے کہ ای میل بھیجنا، کھانا آرڈر کرنا یا دوستوں کے ساتھ تصاویر شیئر کرنا۔

یہ تجاویز یورپی یونین کے ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کے تحت پیش کی گئی ہیں، جس کا مقصد بڑی ٹیک کمپنیوں کی اجارہ داری کو ختم کر کے صارفین کو زیادہ انتخاب فراہم کرنا ہے۔ برسلز کا موقف ہے کہ ان اقدامات سے یورپی یونین بھر میں اینڈرائیڈ صارفین کو اے آئی سروسز کے وسیع تر مواقع ملیں گے۔

دوسری جانب امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے اس اقدام کو غیر ضروری مداخلت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ گوگل کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات نہ صرف اخراجات میں اضافے کا باعث بنیں گے بلکہ یورپی صارفین کے لیے رازداری اور سیکیورٹی کے اہم تحفظات کو بھی کمزور کر سکتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پہلے ہی اس قانون اور ڈیجیٹل سروسز ایکٹ پر تنقید کر چکی ہے اور برسلز پر امریکی کمپنیوں کو بلا جواز ہدف بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

یہ پیش رفت جنوری میں شروع ہونے والے عمل کے ابتدائی نتائج کا حصہ ہے۔ اگرچہ یہ فی الحال کوئی باقاعدہ تحقیقات نہیں ہیں جن کے نتیجے میں فوری جرمانہ ہو سکے، تاہم اگر برسلز گوگل کے اقدامات سے مطمئن نہ ہوا تو معاملہ سنگین ہو سکتا ہے۔

ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کی صورت میں کمپنی کو اس کے عالمی ٹرن اوور کے دس فیصد تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ گوگل پہلے ہی کئی تحقیقات کا سامنا کر رہی ہے، جبکہ ستمبر دو ہزار پچیس میں اسے ایک پرانے مسابقتی کیس میں دو اعشاریہ نو پانچ ارب یورو کا بھاری جرمانہ بھی کیا جا چکا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -