-Advertisement-

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کی نئی تجویز پر سیکیورٹی ٹیم کے ساتھ اہم مشاورت

تازہ ترین

’دی ڈیول ویئر پراڈا‘: مرانڈا پرسٹلی کے کردار کے پیچھے چھپی حقیقت کا انکشاف

مشہور ہالی وڈ فلم دی ڈیول ویئر پراڈا کی اداکارہ ایملی بلنٹ نے انکشاف کیا ہے کہ سن دو...
-Advertisement-

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اپنے اعلیٰ سیکیورٹی مشیروں کے ساتھ ہنگامی اجلاس منعقد کیا جس میں ایران کی جانب سے پیش کردہ ایک تجویز پر غور کیا گیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس تجویز کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے وسیع تر مذاکرات کا عمل بھی جاری ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے ایک بریفنگ کے دوران اس مجوزہ منصوبے کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے تصدیق کی کہ اس تجویز پر مشاورت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے پیر کی صبح اپنی قومی سلامتی کی ٹیم سے ملاقات کی ہے تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا صدر اس پیشکش کو قبول کریں گے یا نہیں۔ یہ تجویز تہران کے متنازع جوہری پروگرام پر مذاکرات سے قبل دونوں ممالک کی جانب سے ناکہ بندی کے خاتمے پر مبنی ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کا مؤقف امریکی مطالبات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگر ایران کا مطلب آبنائے کھولنے سے یہ ہے کہ ان سے اجازت لی جائے یا بھتہ دیا جائے تو یہ آبنائے کا کھلنا نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اس نظام کو ہرگز قبول نہیں کرے گا جس میں ایران یہ طے کرے کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ کون استعمال کرے گا اور اس کے لیے کتنی قیمت ادا کرنی ہوگی۔

اس سے قبل امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ ایکسیوس نے رپورٹ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھولنے اور جوہری مذاکرات کو مؤخر کرنے کی پیشکش پر غور کر رہے ہیں۔ اے بی سی نیوز نے دو نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ یہ معاہدہ واشنگٹن کی طے کردہ ریڈ لائنز پر پورا نہیں اترتا۔

ترجمان کیرولین لیوٹ نے اس حوالے سے واضح کیا کہ ایران کے معاملے پر صدر کی ریڈ لائنز پوری طرح واضح ہیں اور ان سے نہ صرف امریکی عوام بلکہ ایرانی حکام بھی بخوبی آگاہ ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -