-Advertisement-

آبنائے ہرمز کی بندش عالمی امن اور ترقی پذیر ممالک کے لیے خطرہ ہے، پاکستان

تازہ ترین

ایران سے مزید 6 پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے

کوئٹہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایران میں مقیم پاکستانیوں کی وطن واپسی کا عمل اٹھاونویں روز بھی جاری...
-Advertisement-

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بحران کے حل کے لیے سفارت کاری اور بحری تعاون کو فروغ دیا جائے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ عالمی آبی گزرگاہوں میں رکاوٹیں نہ صرف بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ ہیں بلکہ اس سے معاشی استحکام اور ترقی پذیر ممالک کی معیشت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں سمندری سلامتی پر منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سمندری راستوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تجارت کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے توانائی اور خوراک کی فراہمی میں تعطل پیدا ہوتا ہے جس کے اثرات مہنگائی اور ادائیگیوں کے توازن میں بگاڑ کی صورت میں ترقی پذیر ممالک پر مرتب ہوتے ہیں۔

عاصم افتخار نے کہا کہ بحر ہند کے ساحلی ملک کی حیثیت سے پاکستان عالمی آبی گزرگاہوں کی حفاظت اور کھلے پن کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان چین، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے ساتھ مل کر امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی کم کرنے اور خطے میں استحکام کے لیے سفارتی کوششوں میں پیش پیش ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنے سفارتی کردار کو جاری رکھے گا۔

پاکستانی مندوب نے اقوام متحدہ کے قانون برائے سمندر یعنی انکلاس کے تحت قائم قانونی ڈھانچے کے تحفظ پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سمندری تجارت کے تحفظ اور خطے میں امن کے لیے پہلے ہی کمبائنڈ ٹاسک فورس 150 اور 151 کی کمان سنبھال چکا ہے جبکہ اپنے طور پر بھی ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پٹرولز کا آغاز کر رکھا ہے۔

عاصم افتخار نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قوانین اور سفارت کاری پر غیر متزلزل یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی گورننس کے استحکام کو برقرار رکھنا ایک مقدس امانت ہے اور پاکستان امن و امان کے قیام کے لیے تمام تر کوششیں جاری رکھے گا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -