یوکرین میں تعینات امریکی سفارت خانے کی قائم مقام سربراہ جولی ڈیوس جون میں اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گی۔ امریکی حکام نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کا استعفیٰ کسی سیاسی اختلاف کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک پیشہ ورانہ فیصلہ ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ جولی ڈیوس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اختلافات کی بنا پر استعفیٰ دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ جولی ڈیوس اپنی 30 سالہ طویل اور شاندار سفارتی کیریئر کے بعد ریٹائر ہو رہی ہیں۔ وہ جون 2026 میں اپنی باقاعدہ ریٹائرمنٹ تک صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو آگے بڑھاتی رہیں گی۔
جولی ڈیوس کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ انہیں محکمہ خارجہ میں اپنے کیریئر کے مزید اہداف کے حصول کے لیے کوئی واضح راہ نظر نہیں آ رہی تھی۔ ان کے بارے میں چلنے والی قیاس آرائیاں کہ ان کے صدر ٹرمپ سے اختلافات ہیں، سراسر غلط اور بے بنیاد ہیں۔
جولی ڈیوس نے 5 مئی 2025 کو سابق سفیر برجٹ برنک کے استعفے کے بعد یوکرین میں چارج ڈی افیئرز کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔ برجٹ برنک نے اپنے عہدے سے سبکدوش ہوتے وقت کہا تھا کہ وہ انتظامیہ کی پالیسیوں کے ساتھ مزید کام جاری نہیں رکھ سکتیں۔
اپنے قیام کے دوران جولی ڈیوس بیک وقت قبرص میں امریکی سفیر کے فرائض بھی سرانجام دیتی رہی ہیں۔ ان کا دورانیہ یوکرین کے حوالے سے امریکی پالیسیوں میں تبدیلیوں اور اتار چڑھاؤ کا مرکز رہا، جس میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر جیسے نمائندوں نے سفارتی کوششوں میں کلیدی کردار ادا کیا۔
گزشتہ برس نومبر میں امریکی وزیر فوج ڈین ڈرسکول کے دورہ کیف کے دوران وٹکوف اور روسی مذاکرات کاروں کے درمیان امن تجاویز پر بات چیت ہوئی تھی، تاہم روس کی جانب سے شرائط نہ ماننے پر یہ معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔ فروری میں ہونے والے سہ فریقی مذاکرات کو جنگ کے دوران سب سے نتیجہ خیز قرار دیا گیا تھا، تاہم ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث اب سفارتی عمل تعطل کا شکار ہے۔ یوکرین اور امریکہ کے درمیان آخری باضابطہ ملاقات 22 مارچ کو ہوئی تھی۔
