-Advertisement-

عالمی تحقیق: گزشتہ برس کے مقابلے میں ٹراپیکل جنگلات کے رقبے میں کمی ریکارڈ

تازہ ترین

امریکہ میں 10 ملین ڈالر انعام یافتہ گواٹے مالا کا مطلوب منشیات فروش گرفتار

امریکی حکام نے گوئٹے مالا کے منشیات فروش گروہ کے ایک مبینہ سرغنہ کو گرفتار کر لیا ہے جس...
-Advertisement-

عالمی سطح پر برساتی جنگلات کی تباہی کی رفتار میں گزشتہ برس نمایاں کمی دیکھی گئی ہے تاہم یہ اب بھی تشویشناک حد تک بلند ہے۔ ورلڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ اور یونیورسٹی آف میری لینڈ کے محققین کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس دنیا بھر میں 43 لاکھ ہیکٹر یعنی ایک کروڑ چھ لاکھ ایکڑ پر محیط بنیادی برساتی جنگلات کا خاتمہ ہوا جو کہ 2024 کے مقابلے میں 36 فیصد کم ہے۔

اس کمی کے باوجود جنگلات کے کٹاؤ کی موجودہ شرح ہر منٹ میں 11 فٹ بال کے میدانوں کے برابر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ڈنمارک کے کل رقبے کے مساوی ہیں اور ایک دہائی قبل کی نسبت 46 فیصد زیادہ ہیں۔

ورلڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ کی گلوبل فارسٹ واچ پلیٹ فارم کی شریک ڈائریکٹر الزبتھ گولڈمین نے اس پیش رفت کو حکومتوں کے فیصلہ کن اقدامات کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ یہ کمی جزوی طور پر آگ لگنے کے انتہائی واقعات کے بعد کا ایک وقفہ ہو سکتی ہے۔

ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث لگنے والی آگ اب ایک خطرناک معمول بن چکی ہے جو جنگلات کے تحفظ کی حکومتی کوششوں کو ناکام بنا سکتی ہے۔ مڈل ایئر میں ایل نینو کے اثرات سے درجہ حرارت میں اضافے اور خشک سالی کے باعث جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2030 تک جنگلات کے خاتمے کو روکنے اور اسے ریورس کرنے کے عالمی ہدف کے حصول کے لیے موجودہ پیش رفت ناکافی ہے اور یہ ہدف سے 70 فیصد پیچھے ہے۔ یونیورسٹی آف میری لینڈ کے گلیڈ لیب کے ڈائریکٹر میتھیو ہینسن کا کہنا ہے کہ جنگلات کے تحفظ کے لیے صرف ایک اچھا سال کافی نہیں بلکہ تسلسل کی ضرورت ہے۔

برازیل، جہاں دنیا کے سب سے بڑے برساتی جنگلات موجود ہیں، وہاں جنگلات کے خاتمے کی شرح میں 41 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جو اب تک کی کم ترین سطح ہے۔ الزبتھ گولڈمین نے اس بہتری کا سہرا صدر لولا ڈی سلوا کی حکومت کی سخت ماحولیاتی پالیسیوں اور قوانین پر عملدرآمد کو دیا ہے۔

کولمبیا اور انڈونیشیا میں بھی حکومتی معاہدوں اور پالیسیوں کے تحت جنگلات کے کٹاؤ کو محدود کرنے میں مدد ملی ہے، جبکہ ملائیشیا میں بھی صورتحال مستحکم رہی ہے۔ اس کے برعکس بولیویا، جمہوریہ کانگو، کیمرون اور مڈغاسکر میں جنگلات کی تباہی کی شرح اب بھی بلند ہے۔

محققین نے نشاندہی کی ہے کہ زرعی توسیع اب بھی جنگلات کے خاتمے کی بڑی وجہ ہے، تاہم گزشتہ برس ہونے والی کل تباہی میں 42 فیصد حصہ آگ کے واقعات کا تھا۔ گزشتہ تین برسوں میں جنگلات میں لگنے والی آگ کی شدت دو دہائی قبل کے مقابلے میں دوگنا ہو چکی ہے۔

کینیڈا میں گزشتہ برس ریکارڈ کی جانے والی آگ نے 53 لاکھ ہیکٹر جنگلات کو راکھ کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور زمین کی صفائی نے جنگلات کی آگ کو ایک دائمی ہنگامی صورتحال میں تبدیل کر دیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -