-Advertisement-

برطانیہ: یہود دشمنی کے خاتمے کے لیے 34 ملین ڈالر کی امداد کا اعلان

تازہ ترین

اسرائیلی بحریہ کی غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا کے جہازوں پر کارروائی، عملہ حراست میں

غزہ کی سمندری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے 22 جہازوں کو اسرائیلی بحریہ...
-Advertisement-

برطانیہ میں یہودی برادری کے خلاف بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات کے پیش نظر برطانوی حکومت نے 34 ملین ڈالر کی ہنگامی امداد کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ شمالی لندن کے علاقے گولڈرز گرین میں دن دہاڑے دو یہودی شہریوں پر چاقو کے حملے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ اس واقعے کی تحقیقات انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے تحت کی جا رہی ہیں۔

اسٹیٹ سیکیورٹی منسٹر ڈین جاروس نے ٹائمز ریڈیو کو بتایا کہ حکومت اس صورتحال کو ہنگامی بنیادوں پر دیکھ رہی ہے۔ اس فنڈنگ کا مقصد عبادت گاہوں، کمیونٹی مراکز اور اسکولوں کی سیکیورٹی کے لیے پولیس گشت میں اضافہ کرنا ہے۔ حکومت اس سلسلے میں قانون سازی کے عمل کو بھی تیز کرے گی۔

وزیر داخلہ شبانہ محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت اسے ایک قومی ایمرجنسی قرار دے رہی ہے۔ پولیس نے واقعے میں ملوث 45 سالہ ملزم کو حراست میں لے رکھا ہے جو صومالیہ سے بچپن میں قانونی طور پر برطانیہ آیا تھا۔ میٹروپولیٹن پولیس کمشنر مارک رولی کے مطابق ملزم کا تعلق ماضی میں پرتشدد کارروائیوں اور ذہنی مسائل سے رہا ہے اور اسے حکومتی انسدادِ انتہا پسندی پروگرام پریوینٹ کے تحت بھی مانیٹر کیا جاتا رہا ہے۔

حملے میں زخمی ہونے والے 34 سالہ شلومی رینڈ اور 76 سالہ موشے شائن اب خطرے سے باہر ہیں اور زیر علاج ہیں۔ متاثرہ افراد کے لواحقین نے لندن کی سڑکوں پر اس طرح کے واقعات پر گہری تشویش اور خوف کا اظہار کیا ہے۔

لندن پولیس اس حملے کا تعلق حالیہ دنوں میں یہودی تنصیبات پر ہونے والے دیگر حملوں سے جوڑ رہی ہے۔ ان میں ایمبولینس سروس ہٹزولا کی گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنا اور دو عبادت گاہوں پر آتش زنی کے واقعات شامل ہیں۔ اکثر واقعات کی ذمہ داری ایک غیر معروف تنظیم حرکات اصحاب الیمین الاسلامیہ نے قبول کی ہے۔

برطانیہ میں دہشت گردی کے امور کے آزاد جائزہ کار جوناتھن ہال نے خبردار کیا ہے کہ یہودی برادری پر حملے 2017 کے بعد سے سب سے بڑا قومی سلامتی کا بحران ہیں۔ کمیونٹی سیکیورٹی ٹرسٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں برطانیہ بھر میں یہود دشمنی کے 3700 واقعات ریکارڈ کیے گئے جو ایک تشویشناک تعداد ہے۔ چیف ربی سر افرائیم میروس نے کہا ہے کہ یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ برطانیہ میں یہودی شناخت رکھنے والے افراد غیر محفوظ ہیں اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -