واشنگٹن میں امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج جمعرات کو ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے حوالے سے ایک اہم بریفنگ میں شریک ہوں گے۔ اس بریفنگ میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین شریک ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق اس بریفنگ کا مرکزی مقصد ایران کو تنازع ختم کرنے اور مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے درکار ممکنہ اقدامات کا جائزہ لینا ہے۔ وائٹ ہاؤس اور سینٹرل کمانڈ کی جانب سے اس بریفنگ پر باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔
اس سے قبل وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور جنرل ڈین کین صبح گیارہ بجے سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے، جہاں ان سے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کیے گئے تنازع کے حوالے سے سوالات متوقع ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں بریفنگ سینیٹ کی اس سماعت کے بعد متوقع ہے۔
ایک میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سینٹرل کمانڈ نے ایران میں انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے لیے ایک مختصر اور طاقتور فضائی حملے کا منصوبہ تیار کیا ہے، جبکہ دوسرا آپشن آبنائے ہرمز کے کچھ حصوں پر قبضہ کر کے اسے تجارتی جہاز رانی کے لیے بحال کرنا ہے۔ تاہم یہ آپشنز امریکی عسکری منصوبہ بندی کا طویل عرصے سے حصہ رہے ہیں۔
امریکہ میں عوامی سطح پر غیر مقبول ایران کے ساتھ جاری اس تنازع نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا بھر کی تقریباً بیس فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے، اس تنازع کے باعث ٹریفک کے تعطل کے قریب پہنچ چکی ہے۔
