امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے مصنوعی ذہانت فراہم کرنے والی سات بڑی کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں کو حتمی شکل دے دی ہے جس کے تحت ان کمپنیوں کی جدید ٹیکنالوجی کو امریکی فوج کے خفیہ اور انتہائی خفیہ نیٹ ورکس میں استعمال کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد عسکری امور میں مصنوعی ذہانت کے دائرہ کار کو وسیع کرنا ہے۔
معاہدہ کرنے والی کمپنیوں میں اسپیس ایکس، اوپن اے آئی، گوگل، اینویڈیا، ریفلیکشن، مائیکروسافٹ اور ایمیزون ویب سروسز شامل ہیں۔ ان میں سے کئی کمپنیاں پہلے ہی پینٹاگون کے ساتھ کام کر رہی ہیں، تاہم اب انہیں حساس عسکری معاملات میں مزید رسائی حاصل ہوگی۔
اس فہرست میں اینتھروپک کمپنی شامل نہیں ہے۔ پینٹاگون اور اینتھروپک کے مابین فوجی مقاصد کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ضوابط پر تنازعہ چل رہا ہے۔ رواں سال کے اوائل میں پینٹاگون نے اینتھروپک کو سپلائی چین کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے پینٹاگون اور اس کے ٹھیکیداروں کے لیے اس کے استعمال پر پابندی عائد کر دی تھی۔
معاہدے میں شامل ریفلیکشن اے آئی ایک نسبتاً کم معروف کمپنی ہے جس نے اکتوبر میں دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی تھی۔ اس کمپنی کو 1789 کیپیٹل کی حمایت حاصل ہے، جو کہ ایک وینچر کیپیٹل فرم ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اس فرم میں بطور پارٹنر اور سرمایہ کار شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ سسٹم کے ڈیزائن کی باقاعدہ منظوری…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا کیوبا کا کنٹرول جلد سنبھال…
لبنان کے جنوبی علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے…
اسلام آباد میں سندھ کی وزیر برائے صحت و بہبودِ آبادی ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو…
محکمہ موسمیات نے ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں گرد آلود طوفان، تیز ہواؤں،…
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران ایرانی بندرگاہوں…