-Advertisement-

امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد جرمنی کا یورپی دفاع مضبوط بنانے پر زور

تازہ ترین

منشیات اسمگلنگ کے الزامات: میکسیکن گورنر کا تحقیقات کے لیے عہدے سے عارضی استعفیٰ

میکسیکو کی ریاست سینالووا کے گورنر روبن روچا مویا نے منشیات کی اسمگلنگ کے سنگین الزامات کے بعد اپنے...
-Advertisement-

جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے کہا ہے کہ جرمنی سے پانچ ہزار امریکی فوجیوں کے انخلا کا متوقع فیصلہ یورپ کے لیے ایک انتباہ ہے کہ وہ اپنے دفاع کو خود مضبوط کرے۔ واشنگٹن کی جانب سے ٹرانس اٹلانٹک تعلقات میں حالیہ کشیدگی کے بعد پسٹوریئس نے زور دیا کہ یورپی ممالک کو اپنی سیکیورٹی کی ذمہ داری خود اٹھانا ہوگی۔

پینٹاگون نے جمعہ کے روز جرمنی سے فوجیوں کے انخلا کا اعلان کیا جو کہ یورپ میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے۔ یہ اقدام ایران جنگ اور تجارتی محصولات پر امریکہ اور یورپ کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال دسمبر تک جرمنی میں 36 ہزار 436 امریکی فوجی تعینات تھے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے جرمنی میں فوجی موجودگی کم کرنے کا مطالبہ اپنے پہلے دور صدارت میں ہی کر دیا تھا۔ حالیہ دنوں میں جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں امریکی حکمت عملی پر اختلاف کے بعد اس دباؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق انخلا کا عمل چھ سے بارہ ماہ میں مکمل ہوگا۔ اس فیصلے سے ایک مکمل بریگیڈ جرمنی سے نکل جائے گی جبکہ طویل فاصلے تک مار کرنے والی میزائل بٹالین کی تعیناتی بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔

جرمن وزیر دفاع نے کہا کہ جرمنی اپنی مسلح افواج کی توسیع اور دفاعی سازوسامان کی خریداری میں تیزی لا کر درست سمت میں گامزن ہے۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ یورپی ممالک کو اپنی سیکیورٹی کے لیے زیادہ ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔

پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرانس اٹلانٹک اتحاد کے لیے سب سے بڑا خطرہ بیرونی دشمن نہیں بلکہ اتحاد کا بکھراؤ ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہمیں اس تباہ کن رجحان کو بدلنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔

جرمن چانسلر کی جماعت سی ڈی یو کے خارجہ پالیسی کے ترجمان پیٹر بائر نے کہا کہ امریکی فیصلے کسی مربوط حکمت عملی کے بجائے مایوسی اور سیاسی ردعمل کا نتیجہ معلوم ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کو اندرونی اور بیرونی دباؤ کا سامنا ہے جس کا اثر ان کے فیصلوں پر نظر آ رہا ہے۔

نیٹو کے رکن ممالک نے اپنے دفاع کی ذمہ داری بڑھانے کا عہد تو کیا ہے لیکن محدود بجٹ اور فوجی صلاحیتوں میں فرق کے باعث اس ہدف کو حاصل کرنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ جرمنی اپنی فوج کی تعداد ایک لاکھ 85 ہزار سے بڑھا کر دو لاکھ 60 ہزار کرنا چاہتا ہے تاکہ روس سے لاحق خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔

دوسری جانب امریکی انتظامیہ نے یورپی یونین سے درآمد کی جانے والی گاڑیوں پر محصولات 25 فیصد تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے جس سے جرمن معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ یہ پیشرفت امریکہ اور یورپ کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تلخی پیدا کر رہی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -