ایرانی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ تہران نے امریکہ کے سامنے ایک نئی تجویز پیش کی ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنے اور امریکی ناکہ بندی کے خاتمے کے بدلے جوہری پروگرام پر مذاکرات کو مؤخر کیا جا سکتا ہے۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کی حالیہ تجویز سے مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران کی جانب سے ایسی مطالبات کیے جا رہے ہیں جنہیں قبول کرنا ممکن نہیں ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری کا سلسلہ معطل ہوئے چار ہفتے گزر چکے ہیں، لیکن عالمی توانائی کی سپلائی کو شدید متاثر کرنے والی اس جنگ کے خاتمے کے لیے تاحال کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔ ایران گزشتہ دو ماہ سے خلیج میں اپنی جہاز رانی کے علاوہ دیگر تمام ٹریفک کو روکے ہوئے ہے، جبکہ گزشتہ ماہ امریکہ نے بھی ایرانی بندرگاہوں سے آنے والے جہازوں کی ناکہ بندی کر دی تھی۔
ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تہران کا ماننا ہے کہ جوہری مذاکرات کو بعد کے مراحل کے لیے مؤخر کرنے کی تجویز ایک اہم پیش رفت ہے جس کا مقصد معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اس مجوزہ خاکہ کے تحت جنگ کا خاتمہ ہوگا اور اسرائیل و امریکہ کی جانب سے دوبارہ حملہ نہ کرنے کی ضمانت دی جائے گی۔ اس کے بدلے میں ایران آبنائے ہرمز کو کھول دے گا اور امریکہ اپنی ناکہ بندی ختم کر دے گا۔
ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ نئی تجویز کے مطابق مستقبل میں جوہری پروگرام پر پابندیوں اور پابندیوں کے خاتمے پر بات چیت ہوگی، جس میں ایران واشنگٹن سے پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنے کا مطالبہ بھی کرے گا۔
ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ اس فریم ورک کا مقصد پیچیدہ جوہری مسائل کو حتمی مرحلے تک لے جا کر مذاکرات کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ نئی ٹائم لائن ایک باضابطہ تجویز کے ذریعے ثالثوں کی وساطت سے امریکہ کو پہنچا دی گئی ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن کا یہ دو ٹوک مؤقف رہا ہے کہ وہ اس وقت تک جنگ ختم نہیں کرے گا جب تک کوئی ایسا معاہدہ نہ ہو جائے جو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک سکے۔
