بحیرہ اوقیانوس میں سفر کرنے والے ایک کروز جہاز پر ہنٹا وائرس کے پھیلنے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور کم از کم تین دیگر شدید بیمار ہو گئے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت اور جنوبی افریقہ کے محکمہ صحت کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب جہاز اپنی منزل کی جانب گامزن تھا۔
ڈچ پرچم بردار جہاز ایم وی ہونڈیئس ارجنٹائن سے انٹارکٹیکا اور فاک لینڈ جزائر سمیت مختلف مقامات کے دورے پر روانہ ہوا تھا۔ حکام کے مطابق جہاز میں اس وقت تقریباً 150 سیاح موجود ہیں۔
ہلاک ہونے والوں میں ایک 70 سالہ شخص شامل ہے جس کی لاش کو برطانوی علاقے سینٹ ہیلینا میں جہاز سے اتارا گیا تھا۔ اسی مسافر کی اہلیہ، جو نیدرلینڈ واپسی کے لیے جنوبی افریقہ کے ہوائی اڈے پر موجود تھیں، اچانک طبیعت بگڑنے پر ہسپتال منتقل کی گئیں جہاں وہ دم توڑ گئیں۔ ڈچ وزارت خارجہ نے دو ڈچ شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
ایک برطانوی شہری جو جہاز کے عملے کا حصہ بتایا جاتا ہے، اس وقت جوہانسبرگ کے ایک ہسپتال میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیر علاج ہے۔ جہاز اس وقت کیپ ورڈے کے ساحل پر موجود ہے جہاں مقامی حکام متاثرہ افراد کی طبی امداد میں مدد کر رہے ہیں تاہم کسی کو بھی جہاز سے اترنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے علاقائی ڈائریکٹر برائے یورپ ڈاکٹر ہنس ہنری پی کلوگے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عوام کے لیے خطرہ تاحال کم ہے اور گھبرانے یا سفری پابندیاں عائد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
ہنٹا وائرس بنیادی طور پر چوہوں کے پیشاب یا فضلے کے ذریعے پھیلتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ وائرس پھیپھڑوں اور گردوں کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت اس معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے اور جہاز پر موجود دیگر افراد کو طبی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
جہاز آپریٹ کرنے والی کمپنی اوشین وائیڈ ایکسپیڈیشنز کا کہنا ہے کہ تیسرے ہلاک ہونے والے شخص کی لاش فی الحال جہاز پر موجود ہے اور ان کی اولین ترجیح بیمار عملے کے ارکان کو فوری طبی سہولیات کی فراہمی ہے۔
جنوبی افریقہ کا نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار کمیونیکیبل ڈیزیزز جوہانسبرگ میں ان افراد کی کانٹیکٹ ٹریسنگ کر رہا ہے جو متاثرہ مسافروں کے رابطے میں آئے تھے۔ عالمی ادارہ صحت نے واضح کیا ہے کہ ہنٹا وائرس کا کوئی مخصوص علاج تو نہیں ہے تاہم بروقت طبی امداد سے جان بچانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
