-Advertisement-

فرانس کا آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی مشن کے لیے طیارہ بردار بحری جہاز بحیرہ احمر روانہ

تازہ ترین

امریکہ: فلسطین حامی طالب علم مہدوی کے خلاف ملک بدری کی کارروائی دوبارہ شروع

امریکی امیگریشن بورڈ آف اپیلز نے کولمبیا یونیورسٹی کے طالب علم محسن مہدوی کی ملک بدری کی کارروائی دوبارہ...
-Advertisement-

فرانس نے بحیرہ احمر میں اپنے کیریئر اسٹرائیک گروپ کو تعینات کر دیا ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے مشن کی تیاری کرنا ہے۔ فرانسیسی حکام نے واشنگٹن اور تہران پر زور دیا ہے کہ وہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کریں کیونکہ دونوں ممالک کی جانب سے عائد کردہ ناکہ بندیوں کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

پیر کے روز ہونے والی تازہ جھڑپوں نے اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ یہ آبی راستہ عالمی توانائی اور تجارت کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے اور حالیہ واقعات نے چار ہفتے پرانی نازک جنگ بندی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔

فرانسیسی صدارتی محل کے ایک عہدیدار نے بریفنگ کے دوران کہا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رہنے سے عالمی معیشت کو پہنچنے والا نقصان روز بروز بڑھ رہا ہے اور دشمنی کے طویل ہونے کا خطرہ ناقابل قبول حد تک بڑھ چکا ہے۔ فرانس اور برطانیہ کئی ہفتوں سے ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد حالات معمول پر آنے کے بعد اس آبنائے سے محفوظ نقل و حمل کو یقینی بنانا ہے۔

فرانسیسی فوج کے مطابق چارلس ڈی گال طیارہ بردار بحری جہازوں کا گروپ، جس کے ہمراہ اطالوی اور ڈچ جنگی جہاز بھی شامل ہیں، بحیرہ احمر کے جنوبی حصے کی جانب روانہ ہو چکا ہے۔ اس تعیناتی کا مقصد خطے میں آپریشنل ماحول کا جائزہ لینا، بحران کے انتظام کے اختیارات کو وسیع کرنا اور عالمی قوانین کے تحت اتحادی ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو مربوط کرنا ہے۔

فرانسیسی عہدیدار نے تجویز پیش کی کہ ایران اپنے جہازوں کی نقل و حمل کے بدلے امریکہ کے ساتھ جوہری مواد، میزائل اور علاقائی امور پر مذاکرات کا پابند بنے۔ اسی طرح امریکہ اپنی جانب سے ناکہ بندی اٹھائے اور بدلے میں ایران سے مذاکرات کی ضمانت حاصل کرے۔ اس حکمت عملی کے تحت ایک کثیر القومی فورس آبنائے ہرمز سے گزرنے والے قافلوں کو تحفظ فراہم کرے گی، بشرطیکہ ایران ان جہازوں پر فائرنگ نہ کرے۔

یورپی طاقتیں اب تک امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع میں خاموش تماشائی بنی ہوئی تھیں، تاہم مشرق وسطیٰ میں شپنگ روٹس متاثر ہونے اور تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچنے کے بعد یورپی ممالک اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے متحرک ہو گئے ہیں۔ فرانس کا یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یورپی ممالک پر تنقید کو کم کرنے کی ایک کوشش بھی سمجھا جا رہا ہے، جس میں انہوں نے اتحادیوں پر امریکی قیادت میں کی جانے والی کوششوں کا ساتھ نہ دینے کا الزام لگایا تھا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -