چین کے صوبے ہونان میں آتش بازی کا سامان بنانے والی فیکٹری میں ہونے والے خوفناک دھماکے کے نتیجے میں 37 افراد ہلاک اور 61 زخمی ہوگئے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق یہ واقعہ پیر کی سہ پہر چار بج کر چالیس منٹ پر ہونان کے دارالحکومت چانگشا میں پیش آیا۔
چینی سرکاری خبر رساں ادارے ژنہوا اور سی سی ٹی وی کی رپورٹس کے مطابق دھماکا ہواشینگ فائر ورکس مینوفیکچرنگ اینڈ ڈسپلے کمپنی میں ہوا۔ حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں جبکہ 51 زخمی تاحال ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں فیکٹری سے اٹھتا ہوا گہرا دھواں اور عمارتوں کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق جائے وقوعہ پر تقریباً 500 فائر فائٹرز، ریسکیو اہلکار اور طبی عملے نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔
صدر شی جن پنگ نے سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے ذمہ داروں کے تعین اور سخت احتساب پر زور دیا ہے۔
صدر شی جن پنگ نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ اہم صنعتوں میں حفاظتی انتظامات کو مزید سخت کیا جائے تاکہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ واضح رہے کہ چین دنیا بھر میں آتش بازی کا سامان برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور گزشتہ برس اس شعبے سے ایک اعشاریہ ایک چار ارب ڈالر کا زرمبادلہ حاصل کیا گیا تھا۔
یورپی یونین کے موسمیاتی ادارے کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس نے انتباہ جاری کیا ہے کہ…
راولپنڈی میں آئی ایس پی آر کا نغمہ اللہ اکبر، تیار ہیں ہم، معرکہ حق…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین کو خبردار کیا ہے کہ اگر چار جولائی…
خلیج میں امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان جھڑپوں اور متحدہ عرب امارات پر نئے…
تعلیمی اداروں کے زیر استعمال آن لائن لرننگ مینجمنٹ سسٹم کینوس پر سائبر حملے کے…
امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک نئی قرارداد پیش کی ہے جس…