امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ کیتھولک چرچ کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کے باوجود امریکہ اور چرچ کے درمیان نتیجہ خیز تعلقات قائم رہ سکتے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پوپ لیو پر ہونے والی تنقید کے تناظر میں مارکو روبیو نے روم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے ویٹیکن کے دورے کو انتہائی مثبت قرار دیا۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران جنگ اور دیگر معاملات پر پوپ کے بیانات پر تنقید کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ امریکی مفادات کے پیش نظر اقدامات کرتے ہیں اور وہ امریکی پالیسیوں سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار واضح طور پر کرنے کے عادی ہیں۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ امریکہ اور چرچ کے درمیان باہمی تعلقات کو برقرار رکھنا ممکن ہے کیونکہ عالمی سطح پر چرچ ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔
کیوبا میں جاری توانائی کے بحران کے حوالے سے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ کیوبا کے عوام کو مزید انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ واشنگٹن نے حال ہی میں کیوبا کی فوجی زیر انتظام کمپنیوں اور کان کنی کے مشترکہ منصوبوں پر پابندیاں عائد کی ہیں تاکہ وہاں کی کمیونسٹ قیادت پر اصلاحات کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔
مارکو روبیو نے انکشاف کیا کہ امریکہ اب تک چرچ کے توسط سے کیوبا کے عوام کو ساٹھ لاکھ ڈالر کی انسانی امداد فراہم کر چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے کیوبا کی حکومت کو دس کروڑ ڈالر کی امداد کی پیشکش بھی کی تھی تاہم کیوبن حکومت نے اس امداد کی تقسیم سے انکار کر دیا تھا۔
