واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ روس اور یوکرین کے مابین ایک ہزار قیدیوں کا تبادلہ کیا جائے گا۔ یہ اقدام روس میں وکٹری ڈے کے موقع پر تین روزہ جنگ بندی کا حصہ ہے۔
امریکی صدر کے مطابق یہ عارضی جنگ بندی ہفتے سے پیر تک جاری رہے گی جس کے دوران تمام عسکری سرگرمیاں معطل رہیں گی۔ تاہم ابھی تک روس اور یوکرین کی جانب سے اس جنگ بندی کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے خود یہ جنگ بندی کی درخواست کی تھی اور وہ اس پر رضامندی ظاہر کرنے پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مشکور ہیں۔
امریکی صدر نے چار سال سے جاری اس طویل اور تباہ کن جنگ کے حوالے سے امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت ایک طویل اور مشکل جنگ کے خاتمے کی شروعات ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد اس سب سے بڑے تنازع کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں اور فریقین امن معاہدے کے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔
اس سے قبل یوکرینی صدر زیلنسکی نے پانچ اور چھ مئی جبکہ روس نے گزشتہ ہفتے آٹھ اور نو مئی کو جنگ بندی کا عندیہ دیا تھا۔ ٹرمپ کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رواں ہفتے امریکی حکام اور یوکرینی نمائندوں کے درمیان میامی میں ملاقات ہوئی ہے جبکہ گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ اور ولادیمیر پیوٹن کے مابین بھی ٹیلی فونک رابطہ ہوا تھا۔
