-Advertisement-

سائبر حملے کے ذریعے 9 ہزار تعلیمی اداروں کا ڈیٹا چوری

تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال

وزیر اعظم شہباز شریف نے لاہور میں جاتی امرا کا دورہ کیا جہاں انہوں نے مسلم لیگ ن کے...
-Advertisement-

عالمی سطح پر تعلیمی اداروں کے زیر استعمال سافٹ ویئر کینوس کے ڈیٹا میں ہیکنگ کے واقعے کے بعد کئی اسکولوں اور یونیورسٹیوں نے اپنے طلبہ کا ڈیٹا لیک ہونے سے بچانے کے لیے ہیکرز سے رابطہ قائم کر لیا ہے۔

شائنی ہنٹرز نامی ہیکنگ گروپ نے تین مئی کو اپنی ویب سائٹ پر دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے کینوس کا تقریباً چھ اعشاریہ چھ پانچ ٹیرا بائٹ ڈیٹا چوری کیا ہے۔ اس ڈیٹا میں دنیا بھر کے نو ہزار تعلیمی اداروں کے طلبہ کے نام، ای میل ایڈریسز اور اساتذہ و طلبہ کے درمیان نجی پیغامات شامل ہیں۔

امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے جمعہ کے روز تصدیق کی کہ وہ تعلیمی نظام کو متاثر کرنے والے ایک سائبر حملے سے آگاہ ہیں تاہم انہوں نے کینوس کا نام نہیں لیا۔

ہیکرز گروپ نے پانچ مئی کو ایک پیغام میں کہا کہ کینوس کی پیرنٹ کمپنی انسٹرکچر نے ڈیٹا لیک روکنے کے لیے ان سے بات کرنے کی زحمت نہیں کی، جبکہ ان کا مطالبہ توقع سے کہیں کم تھا۔ اس پیغام میں چودہ سو تعلیمی اداروں کی فہرست بھی جاری کی گئی اور انہیں مذاکرات کی پیشکش کی گئی۔

انسٹرکچر کمپنی نے یکم مئی کو ایک سیکیورٹی واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔ کمپنی کے چیف انفارمیشن سیکیورٹی آفیسر اسٹیو پراؤڈ کے مطابق چوری ہونے والی معلومات میں صارفین کے نام، ای میل، اسٹوڈنٹ آئی ڈی نمبرز اور پیغامات شامل تھے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ہیکنگ ان کی فری فار ٹیچر سروس میں موجود خامی کے باعث ممکن ہوئی جسے اب عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

چند روز قبل کینوس کے صارفین کو لاگ ان کے دوران ہیکرز کی جانب سے ایک نوٹ بھی دکھائی دیا جس میں متاثرہ اداروں کی فہرست کا لنک دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد کمپنی نے کینوس کو کچھ وقت کے لیے آف لائن کر دیا تھا تاہم اب سروس بحال کر دی گئی ہے۔

مختلف اسکول اضلاع نے والدین اور عملے کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ڈیٹا کے تحفظ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کر رہے ہیں۔ انسٹرکچر کے مطابق کینوس کے دنیا بھر میں تین کروڑ فعال صارفین موجود ہیں۔ شائنی ہنٹرز نے سات مئی کو اپنی ویب سائٹ سے ہیکنگ سے متعلق پیغامات ہٹا کر یہ موقف اختیار کیا ہے کہ وہ اس عالمی واقعے پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -