-Advertisement-

ایران کا جواب مسترد: ٹرمپ نے جنگ بندی کو ‘آخری سانسیں’ لیتی قرار دے دیا

تازہ ترین

ایلون مسک اور ٹم کک سمیت اہم کاروباری شخصیات کا ٹرمپ کے دورہ چین میں شامل ہونے کا امکان

وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے رواں ہفتے متوقع دورہ چین کے لیے معروف کاروباری شخصیات کو...
-Advertisement-

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے امن تجاویز کے جواب کو مسترد کیے جانے کے بعد دس ہفتوں سے جاری تنازعہ مزید سنگین ہو گیا ہے جس سے آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل بدستور معطل ہے۔

واشنگٹن اور دبئی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ نے پیر کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے بھیجے گئے جواب کو پڑھنے کے بعد وہ جنگ بندی کو انتہائی کمزور سمجھتے ہیں۔ انہوں نے ایران کے ردعمل کو کوڑا کرکٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسے مکمل پڑھنا بھی گوارہ نہیں کیا۔

امریکی انتظامیہ نے جنگ بندی کے لیے ایک تجویز پیش کی تھی جس کا مقصد مذاکرات کی بحالی تھا، تاہم ایران نے اپنے جواب میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے، جنگی نقصانات کے ازالے، آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری، بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے موقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مطالبات جائز ہیں جن میں جنگ کا خاتمہ، ناکہ بندی کا خاتمہ اور غیر منصفانہ طور پر منجمد کیے گئے ایرانی اثاثوں کی بحالی شامل ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں محفوظ گزرگاہ اور خطے میں سیکیورٹی کا قیام ایک ذمہ دارانہ پیشکش ہے۔

اس تعطل کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں دو اعشاریہ سات فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ ایک سو چار ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے سبب اوپیک کی تیل کی پیداوار اپریل میں دو دہائیوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ شپنگ ڈیٹا کے مطابق آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے اور کئی ٹینکرز ایرانی حملوں کے خوف سے اپنے ٹریکر بند کر کے گزرنے پر مجبور ہیں۔

آئندہ کی حکمت عملی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ صدر ٹرمپ بدھ کو بیجنگ پہنچیں گے جہاں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات میں ایران کا معاملہ زیر بحث آئے گا۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام اور پراکسی فورسز کے خاتمے کے لیے ابھی مزید کام باقی ہے اور انہوں نے طاقت کے استعمال کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔

ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان، جو امریکا، ایران اور پاکستان کے ساتھ رابطے میں ہیں، منگل کے روز قطر میں اس تنازعے اور سمندری راستوں کی حفاظت پر بات چیت کریں گے۔ دریں اثنا، لبنان کے جنوبی علاقوں میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں بھی جاری ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -