تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی بھی ملک نے امریکہ کو فوجی اڈے فراہم کیے تو اسے براہ راست جارحیت میں ملوث تصور کیا جائے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے برطانوی ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران واضح کیا کہ کسی بھی ملک کی جانب سے امریکی عسکری معاونت کو تنازع کا حصہ سمجھا جائے گا۔ تہران نے عزم ظاہر کیا ہے کہ دشمن کے تمام فوجی اڈے ایران کے ممکنہ اہداف ہو سکتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران نے اب تک اپنی عسکری طاقت کا معمولی حصہ استعمال کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ملکی انفراسٹرکچر پر کسی بھی نئے حملے کی صورت میں شدید ردعمل دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے بین الاقوامی برادری کے دباؤ پر تحمل کا مظاہرہ کیا ہے تاہم تنازع کے خاتمے کے لیے شہری نقصانات کا ازالہ ناگزیر ہے۔
عباس عراقچی کے مطابق ایران کے حالیہ اقدامات دفاعی نوعیت کے حامل ہیں اور کسی بھی نئی جارحیت کا بھرپور اور جامع جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے تحمل اور تعمیری اقدامات کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مشرق وسطیٰ میں فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایک امریکی ایف پینتیس سٹیلتھ لڑاکا طیارے کو ایک امریکی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی۔ اس کے علاوہ ایک امریکی بی باون بمبار طیارہ واپس برطانیہ پہنچ گیا ہے۔
