دبئی میں عید الفطر کے موقع پر زوردار دھماکے سنے گئے ہیں، جہاں فضائی دفاعی نظام نے شہر کی فضا میں داخل ہونے والے میزائلوں کو ناکارہ بنا دیا۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب لوگ عید کی نماز کے لیے مساجد کا رخ کر رہے تھے۔
بحرین کی وزارت داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ ایک میزائل کا ملبہ گودام پر گرنے سے وہاں آگ لگ گئی۔ دوسری جانب سعودی عرب نے مشرقی صوبے کو نشانہ بنانے والے متعدد ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ کشیدگی ایران کی جانب سے خطے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں اور ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملے کے بعد اسرائیل پر ایک درجن سے زائد میزائل داغے جانے کے بعد پیدا ہوئی ہے۔ ساؤتھ پارس دنیا کا سب سے بڑا گیس فیلڈ ہے جو قطر اور ایران کے درمیان مشترک ہے۔ ایران اپنی اسی فیصد بجلی اسی گیس سے پیدا کرتا ہے، جس کے باعث یہ حملہ ایرانی توانائی کے نظام کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔
کویت کی فوج نے جمعہ کے روز تصدیق کی کہ ایران نے ملک پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ کویتی مسلح افواج کے مطابق سنائی دینے والے دھماکے دراصل دشمن کے حملوں کو ناکارہ بنانے والے فضائی دفاعی نظام کا نتیجہ ہیں۔ اس سے قبل کویت کی مینا الاحمدی ریفائنری پر ڈرون حملے سے آگ لگی تھی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ کویتی فوج کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 18 ایرانی ڈرونز بھیجے گئے جن میں سے 13 کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔
اسرائیلی فوج نے تہران کے قلب میں ایرانی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی حملوں کا آغاز کر دیا ہے، یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں ہوئی جب ایران میں نوروز کا تہوار منایا جا رہا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے یہ حملے ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کی تنصیبات پر حملوں میں شدت کے بعد کیے گئے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ایران کی موجودہ قیادت کی ساخت غیر واضح ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ حملوں میں کئی اہم مذہبی اور سیکیورٹی رہنما مارے جا چکے ہیں۔ نیتن یاہو نے کہا کہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای منظر عام پر نہیں آئے اور یہ واضح نہیں کہ ایران میں اصل صورتحال کیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے یہ بھی انکشاف کیا کہ سابق امریکی صدر ٹرمپ نے انہیں ایران کے گیس فیلڈ پر مزید حملے روکنے کی درخواست کی تھی، جس پر اسرائیل عمل کر رہا ہے۔ نیتن یاہو نے واضح کیا کہ ساؤتھ پارس پر حملہ اسرائیل نے تنہا کیا تھا۔
ادھر ایران کی جانب سے اسرائیل پر جوابی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث حیفہ سے لے کر لبنان کی سرحد تک سائرن بجتے رہے اور لاکھوں افراد کو پناہ گاہوں میں منتقل ہونا پڑا۔
