واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکی پینٹاگون نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے کے حوالے سے تفصیلی منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے۔ اس پیش رفت سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عسکری کمانڈروں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کے پیش نظر زمینی دستوں کی تعیناتی کے لیے باقاعدہ درخواستیں جمع کروا دی ہیں۔
امریکی صدر اس معاملے پر غور کر رہے ہیں کہ آیا خطے میں زمینی فوج کو تعینات کیا جائے یا نہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ کن حالات میں صدر ٹرمپ زمینی فوج کے استعمال کی اجازت دیں گے۔ جمعرات کے روز اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے زمینی فوج بھیجنے کے امکان کو مسترد کیا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر وہ ایسا کوئی فیصلہ کرتے بھی ہیں تو وہ اس کا اعلان نہیں کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے اپنے بیان میں وضاحت کی ہے کہ پینٹاگون کا کام صدر کو زیادہ سے زیادہ آپشنز فراہم کرنا ہے، جس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ صدر نے کوئی حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ صدر اس وقت کہیں بھی زمینی فوج بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
ذرائع کے مطابق عسکری حکام نے اس صورتحال کے لیے بھی تیاریاں شروع کر دی ہیں کہ اگر زمینی آپریشن کا فیصلہ ہوتا ہے تو ایرانی فوجیوں اور نیم فوجی دستوں کو حراست میں لینے کے بعد کہاں منتقل کیا جائے گا۔ امریکی محکمہ دفاع خطے میں 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کے دستے تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
اس منصوبہ بندی میں آرمی کی گلوبل ریسپانس فورس اور میرین کور کی میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ بھی شامل ہیں۔ کیلیفورنیا سے تین جنگی جہازوں اور تقریباً 2200 میرینز پر مشتمل دستہ رواں ہفتے مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ ہو چکا ہے۔ یہ جنگ شروع ہونے کے بعد روانہ کیا جانے والا دوسرا میرین یونٹ ہے جس کے پہنچنے میں چند ہفتے لگ سکتے ہیں۔ ان فوجی نقل و حرکت کا مقصد صدر کے لیے عسکری آپشنز کو وسیع کرنا ہے، جبکہ انتظامیہ عوامی سطح پر آئندہ کے لائحہ عمل پر بات کرنے سے گریزاں ہے۔
