بین الاقوامی فوجداری عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کے خلاف جنسی بدسلوکی کے الزامات کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔ عدالت کے ایگزیکٹو برانچ کی جانب سے عملے کو جاری کردہ ایک داخلی میمو میں ان میڈیا رپورٹس کی تردید کی گئی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کریم خان کو الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔
جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے مقدمات کی تحقیقات کرنے والے کریم خان پر اپنے دفتر کی ایک وکیل کے ساتھ غیر رضامندانہ جنسی تعلق کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ کریم خان نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور وہ تحقیقات مکمل ہونے تک اپنے عہدے سے عارضی طور پر الگ ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے داخلی نگرانی کی خدمات نے ایک سال طویل تحقیقات کے بعد اپنی خفیہ رپورٹ گزشتہ دسمبر میں عدالت کی ایگزیکٹو برانچ یعنی اسمبلی آف اسٹیٹس پارٹیز کے بیورو کو جمع کرائی تھی۔ اس سے قبل مڈل ایسٹ آئی کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کریم خان کو الزامات سے کلین چٹ مل گئی ہے۔
تاہم اسمبلی کی صدر پیوی کوکورانٹا نے عدالت کے عملے کو بھیجے گئے میمو میں واضح کیا ہے کہ بیورو کے سامنے تادیبی عمل جاری ہے اور یہ معاملہ تاحال خفیہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے اور میڈیا میں گردش کرنے والی قیاس آرائیوں کو کوئی اہمیت نہ دی جائے۔
کریم خان کے خلاف یہ تحقیقات ایک ایسے وقت میں جاری ہیں جب وہ غزہ میں اسرائیلی جنگی جرائم کی تحقیقات اور وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے بعد امریکی پابندیوں کی زد میں ہیں۔ ان پابندیوں اور چیف پراسیکیوٹر کے عارضی انخلا نے عالمی عدالت کو ایک سنگین بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
ایک سو پچیس رکن ممالک پر مشتمل یہ عدالت بین الاقوامی جرائم کے لیے آخری فورم سمجھی جاتی ہے۔ تاہم چین، روس اور امریکہ اس کے رکن نہیں ہیں اور یہ تینوں ممالک کریم خان کی جانب سے ولادیمیر پیوٹن اور بنجمن نیتن یاہو جیسے سربراہان مملکت کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔
