-Advertisement-

بجٹ تعطل کے باوجود ٹرمپ کا امریکی ہوائی اڈوں پر امیگریشن اہلکار تعینات کرنے کا حکم

تازہ ترین

لبنان سرحد پر اسرائیلی فوج کی اپنی ہی فائرنگ سے شہری ہلاک

اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ لبنان کی سرحد پر اتوار کے روز ہلاک ہونے والا شہری عوفر...
-Advertisement-

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر امیگریشن حکام کو تعینات کرنے کا غیر معمولی اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ پیر سے نافذ العمل ہوگا جس کا مقصد سکیورٹی چیکنگ کے دوران بڑھتے ہوئے رش کو کم کرنا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اتوار کی صبح سوشل میڈیا پر اس اقدام کی اطلاع دی جس کے بعد متعلقہ حکام فوری طور پر ایک جامع لائحہ عمل تیار کرنے میں مصروف ہو گئے ہیں۔

صدر کے سینئر سرحدی مشیر ٹام ہومن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی آئی سی ای کے اہلکاروں کو ان کے معمول کے فرائض سے ہٹا کر ہوائی اڈوں پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اہلکار سکیورٹی اسکریننگ یا ایکس رے مشینوں جیسے تکنیکی کام نہیں کریں گے جن کی انہیں تربیت حاصل نہیں ہے، بلکہ وہ سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے دیگر مقامات پر خدمات انجام دیں گے۔

محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے فنڈز چودہ فروری سے معطل ہیں جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹیشن سکیورٹی ایڈمنسٹریشن یعنی ٹی ایس اے کا عملہ تنخواہوں کے بغیر کام کرنے پر مجبور ہے۔ اس بحران کے باعث اب تک تین سو سے زائد ٹی ایس اے ملازمین ملازمت چھوڑ چکے ہیں جبکہ غیر اعلانیہ چھٹیوں کی شرح میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ کئی بڑے ہوائی اڈوں پر عملے کی مدد کے لیے عطیات اور راشن جمع کیا جا رہا ہے کیونکہ اہلکار معاشی مشکلات کے باعث اضافی ملازمتیں کرنے پر مجبور ہیں۔

امریکی وزیر ٹرانسپورٹیشن شان ڈفی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں صورتحال مزید ابتر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حالات کی سنگینی کانگریس پر دباؤ ڈالے گی تاکہ وہ اس تعطل کا کوئی حل نکال سکے۔ دوسری جانب ڈیموکریٹک قانون سازوں نے مطالبہ کیا ہے کہ امیگریشن کریک ڈاؤن کے دوران نجی املاک میں داخلے کے لیے عدالتی وارنٹ کو لازمی قرار دیا جائے اور گشت کے عمل کو محدود کیا جائے۔

واضح رہے کہ محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے تحت کام کرنے والے آئی سی ای کے پاس گزشتہ برس کانگریس سے منظور شدہ فنڈز موجود ہیں، جس کے باعث وہ اپنے آپریشنز جاری رکھنے کے قابل ہے۔ تاہم منیسوٹا میں ہونے والے مہلک امیگریشن کریک ڈاؤن کے بعد سے ڈیموکریٹس اور وائٹ ہاؤس کے درمیان فنڈنگ کے معاملے پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -