اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے چھبیس نومبر کو سنگجانی جلسے، سپریم کورٹ کے باہر احتجاج اور دیگر مظاہروں سے متعلق دو سو تیس سے زائد مقدمات میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کی عبوری ضمانت میں توسیع کر دی ہے۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے حکام کو اکیس مئی تک پی ٹی آئی رہنماؤں کو گرفتار کرنے سے روک دیا ہے۔
سماعت کے دوران عمر نیازی، رؤف حسن اور اعظم سواتی سمیت دیگر رہنما عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے دونوں فریقین کو آئندہ سماعت پر اپنے دلائل پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف تھانہ ترنول، رمنا، آبپارہ اور سیکرٹریٹ سمیت مختلف تھانوں میں مقدمات درج ہیں۔
چھبیس نومبر کے یہ احتجاجی مظاہرے سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اسلام آباد میں ڈو اور ڈائی دھرنے کی کال کے بعد شروع ہوئے تھے۔ ہزاروں کارکنوں نے دارالحکومت کی جانب مارچ کیا تھا جن کا مطالبہ تھا کہ عمران خان سمیت جیل میں قید پی ٹی آئی رہنماؤں کو رہا کیا جائے اور 2024 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف حکومت مستعفی ہو۔
ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔
اس سے قبل راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے چھبیس نومبر کے پرتشدد مظاہروں میں حصہ لینے پر بیاسی کارکنوں کو چار چار ماہ قید اور پندرہ ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ ان مظاہروں میں تین رینجرز اہلکار اور ایک پولیس کانسٹیبل جاں بحق ہوا تھا۔
ملزمان نے اعتراف کیا تھا کہ انہیں پارٹی قیادت نے اکسایا تھا، جس کے بعد انہوں نے عدالت سے نرمی کی استدعا کرتے ہوئے مستقبل میں احتجاج میں حصہ نہ لینے کا عہد کیا تھا۔ دوسری جانب سپریم کورٹ نے نو مئی کے مقدمات میں پی ٹی آئی سینیٹر اعجاز چوہدری اور فرحت عباس کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ٹرائل چار ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔
