-Advertisement-

ای سی سی کی جانب سے وزیراعظم کے کفایت شعاری فنڈ کے لیے 100 ارب روپے کی گرانٹ کی منظوری

تازہ ترین

سعودی سفیر کی ایران کے خلیجی حملوں پر پاکستان کی ذمہ دارانہ سفارت کاری کی تعریف

اسلام آباد میں تعینات سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان...
-Advertisement-

اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیراعظم کے آسٹرٹی فنڈ کے لیے ایک سو ارب روپے کی ضمنی گرانٹ کی منظوری دے دی گئی۔ یہ گرانٹ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں سبسڈی فراہم کرنے کے لیے مختص کی گئی ہے۔

اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ خلیجی خطے میں کشیدہ صورتحال اور عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر وزیراعظم نے پی ایس ڈی پی کے فنڈز کو استعمال کرنے کی ہدایت کی تھی تاکہ صارفین کو قیمتوں کے بوجھ سے بچایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے حجم کو ایک سو ارب روپے کم کر کے نو سو ارب روپے کر دیا گیا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق یہ فنڈز مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کے پی ایس ڈی پی فنڈز کو ریشنلائز کر کے حاصل کیے گئے ہیں۔ اس عمل میں اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ ترجیحی اور اہم منصوبوں کو کم سے کم نقصان پہنچے۔ متعلقہ وزارتوں کے پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران کے ساتھ مشاورت کے بعد فنڈز کی منتقلی کا عمل مکمل کیا جا رہا ہے۔

حکومت نے وزیراعظم آسٹرٹی فنڈ 2026 کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس فنڈ میں ملکی اور غیر ملکی عطیات اسٹیٹ بینک، نیشنل بینک اور دیگر تمام شیڈول بینکوں کی شاخوں میں جمع کرائے جا سکیں گے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے عطیات پاکستانی مشنز کے ذریعے اسٹیٹ بینک کو بھجوا سکیں گے۔ اس فنڈ کا انتظام وزارت خزانہ کے پاس ہوگا جبکہ اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان ریونیو اس کے اکاؤنٹس کی دیکھ بھال کریں گے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ایک اور اہم فیصلے میں گندم کی خریداری کے لیے بھی منظوری دی ہے۔ ابتدائی طور پر نجی شعبے کے ذریعے شفاف اور مسابقتی عمل کے تحت دس لاکھ ٹن گندم خریدی جائے گی۔ وزارت قومی غذائی تحفظ نے وفاقی اسٹریٹجک ذخائر کے لیے تیس لاکھ ٹن گندم کی خریداری کی تجویز دی تھی تاہم کمیٹی نے فی الحال دس لاکھ ٹن کی منظوری دی ہے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ خریداری کے عمل کے دوران مالی اثرات اور قیمتوں کے تعین کے حوالے سے وزارت خزانہ کے ساتھ مزید مشاورت کی جائے گی۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ خریداری کے اہداف کو لچکدار رکھا جائے گا تاکہ فصل کی پیداوار اور مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق بروقت فیصلے کیے جا سکیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -