-Advertisement-

وفاقی حکومت کا سول سرونٹس کنڈکٹ رولز میں بڑی تبدیلیوں کا فیصلہ

تازہ ترین

کراچی: لانڈھی میں تیز رفتار گاڑی کی موٹر سائیکل کو ٹکر، دو افراد جاں بحق

کراچی کے علاقے لانڈھی میں مانسہرہ کالونی کے قریب تیز رفتار نامعلوم گاڑی نے موٹر سائیکل کو ٹکر مار...
-Advertisement-

وفاقی حکومت نے سول سرونٹس کے ضابطہ اخلاق میں بڑی تبدیلیاں متعارف کروا دی ہیں۔ وزیراعظم کی منظوری کے بعد سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026 کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس کے ساتھ ہی دہائیوں پرانا انتظامی ڈھانچہ تبدیل ہو گیا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے تحت ریگولیٹری فریم ورک میں ترامیم کرتے ہوئے نیا سٹیچوٹری ریگولیٹری آرڈر جاری کیا ہے، جس کا مقصد وفاقی بیوروکریسی میں سرکاری ملازمین کے لیے سخت معیارات کا نفاذ ہے۔

نئے قواعد کے تحت مفادات کے ٹکراؤ کو روکنے اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے جامع پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ سرکاری ملازمین کو اپنے عہدے کا ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنے سے سختی سے منع کر دیا گیا ہے جبکہ اثاثوں کی لازمی ڈیکلریشن کو نظام کا مرکزی حصہ بنا دیا گیا ہے۔

گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کے لیے اب ہر سال اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانا لازمی ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد اعلیٰ انتظامی سطح پر مالی احتساب کو مضبوط بنانا ہے۔

نئے ضابطہ اخلاق میں سرکاری ملازمین کے سوشل میڈیا کے استعمال پر بھی سخت حدود مقرر کی گئی ہیں۔ اب ملازمین سرکاری پالیسی یا حکومتی موقف کے منافی عوامی رائے کا اظہار نہیں کر سکیں گے۔

اس کے علاوہ تحائف کے حصول، نجی ملازمت اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر بھی کڑی نگرانی ہوگی۔ سرکاری ملازمین پر واضح طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے کہ وہ نہ تو کسی سیاسی معاملے میں حصہ لیں گے، نہ سیاسی حمایت کا اظہار کریں گے اور نہ ہی ریاستی پالیسیوں کے خلاف کوئی ایسا بیان دیں گے جس کی تشریح مخالفت کے طور پر کی جا سکے۔

ایس آر او میں سرکاری ملازمین کو ایسی تحریریں، یادداشتیں یا مواد شائع کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے جن میں حساس یا خفیہ معلومات شامل ہوں، تاکہ سرکاری رازوں کے تحفظ اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھا جا سکے۔

ایک اور اہم شق کے تحت سرکاری ملازمین کو نجی شعبے کے اداروں، بشمول بینکوں، کمپنیوں، پرائیویٹ ٹرسٹ، فاؤنڈیشنز یا غیر منافع بخش تنظیموں کے ساتھ کل وقتی یا جز وقتی ملازمت یا وابستگی رکھنے سے بھی منع کر دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق نظرثانی شدہ ضابطہ اخلاق کا مقصد سول سروس میں غیر جانبداری کے اصول کو مستحکم کرنا ہے تاکہ سرکاری افسران اپنے عہدے پر رہتے ہوئے سیاسی اور تجارتی مفادات سے بالاتر رہ سکیں۔

سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026 کے نفاذ کے ساتھ ہی 1964 سے رائج پرانا فریم ورک منسوخ کر دیا گیا ہے۔ تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ پرانے قواعد کے تحت شروع کی گئی کارروائیاں بدستور برقرار رہیں گی اور ان کا فیصلہ موجودہ قانونی شقوں کے مطابق کیا جائے گا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -