-Advertisement-

آبنائے ہرمز سے 24 گھنٹوں کے دوران صرف پانچ بحری جہازوں کا گزر

تازہ ترین

ایران کے ساتھ اعتماد کی بحالی میں طویل عرصہ لگے گا، متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور گرگاش نے کہا ہے کہ تہران اور ابوظہبی کے مابین اعتماد کی...
-Advertisement-

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کو دو ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود خطے میں امن مذاکرات کی بحالی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی تجارت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اس اہم آبی گزرگاہ سے صرف پانچ جہاز گزر سکے ہیں، جن میں ایرانی تیل بردار ٹینکر بھی شامل ہے۔

جہاز رانی کے اعداد و شمار کے مطابق، جنگ کے آغاز سے قبل روزانہ اوسطاً ایک سو چالیس جہاز اس گزرگاہ سے گزرتے تھے، تاہم اب یہ تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ رواں ہفتے ایران کی جانب سے دو کنٹینر بردار جہازوں کو قبضے میں لینے اور امریکی بحریہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔

شپنگ ایسوسی ایشن بِیمکو کے چیف سیفٹی اینڈ سیکیورٹی آفیسر جیکب لارسن کا کہنا ہے کہ شپنگ کمپنیوں کے لیے مستقل جنگ بندی اور دونوں جانب سے تحفظ کی یقین دہانی ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ متبادل راستے محدود ہونے کی وجہ سے معمول کے مطابق تجارتی حجم کو برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا۔

ادھر امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والا ایرانی پرچم بردار ٹینکر نیکی بھی آبنائے سے گزرا ہے، تاہم اس کی منزل کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ تجزیہ کاروں کا خدشہ ہے کہ اگر یہ جہاز امریکی بحریہ کی جانب سے قائم کردہ ناکہ بندی کی لکیر کی جانب بڑھا تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

زینٹا کے چیف تجزیہ کار پیٹر سینڈ نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ قبضوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کا کھلا ہونا بھی جہازوں اور عملے کے لیے محفوظ نہیں ہے۔ واضح رہے کہ اس آبی گزرگاہ کی بندش سے دنیا بھر میں تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا پانچواں حصہ متاثر ہوا ہے، جس سے عالمی توانائی بحران نے جنم لیا ہے۔

خلیج کے اندر اب بھی سینکڑوں جہاز اور بیس ہزار سے زائد ملاح پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ انشورنس کمپنیاں اور تیل فراہم کرنے والے ادارے کشیدگی میں کمی کے منتظر ہیں تاکہ سمندری راستوں کو دوبارہ بحال کیا جا سکے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -