متحدہ عرب امارات نے کثیر الجہتی بین الاقوامی تنظیموں میں اپنی رکنیت اور کردار کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ فی الحال کسی مزید تنظیم سے علیحدگی پر غور نہیں کیا جا رہا۔ یہ بیان ابوظہبی کی جانب سے اوپیک (OPEC) سے علیحدگی کے حیران کن اعلان کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔
ایک اعلیٰ اماراتی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امارات عالمی سطح پر اپنی رکنیت کے افادیت کا وسیع پیمانے پر جائزہ لے رہا ہے۔ یہ پیش رفت ان قیاس آرائیوں کے درمیان سامنے آئی ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ ابوظہبی عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل (GCC) جیسی علاقائی تنظیموں سے بھی نکل سکتا ہے۔
اوپیک اور اوپیک پلس سے امارات کی یکم مئی سے مؤثر علیحدگی نے اس تنظیم کے سرکردہ رکن سعودی عرب کے ساتھ خلیجی ریاست کے بڑھتے ہوئے اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ ماضی کے قریبی حلیف ممالک کے درمیان اب تیل کی پالیسی، علاقائی جغرافیائی سیاست اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول جیسے معاملات پر شدید مسابقت دیکھی جا رہی ہے۔
اماراتی وزیر انور قرقاش نے پیر کے روز ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خلیج تعاون کونسل کے کردار پر تنقید کی اور کہا کہ ایران جنگ کے دوران جی سی سی کا سیاسی اور عسکری موقف تاریخ کا کمزور ترین موقف تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں عرب لیگ سے تو ایسی توقع تھی لیکن جی سی سی کے رویے نے انہیں مایوس کیا ہے۔
انور قرقاش کے مطابق متحدہ عرب امارات اب اپنے علاقائی اور بین الاقوامی تعلقات کا بغور جائزہ لے رہا ہے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ کن پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تزویراتی خود مختاری امارات کی مستقل ترجیح رہے گی اور ملک اپنی معاشی و مالی پوزیشن کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔
خطے کے ایک بڑے کاروباری اور مالیاتی مرکز کی حیثیت سے متحدہ عرب امارات اپنی ایک خود مختار خارجہ پالیسی پر گامزن ہے اور مشرق وسطیٰ سے افریقہ تک اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔ ایران کے ساتھ کشیدگی کے بعد سے امارات نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے اور 2020 میں ابراہیمی معاہدوں کے تحت اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کا قیام اس کی علاقائی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔
