-Advertisement-

اسرائیلی افواج کی غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا کی بحیرہ روم میں ناکہ بندی

تازہ ترین

ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے امکان پر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 7 فیصد اضافہ

امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے اشاروں اور مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل...
-Advertisement-

اسرائیلی فوج نے بحیرہ روم میں انسانی امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کو ڈرونز، مواصلاتی نظام میں خلل اور مسلح اہلکاروں کے ذریعے روک لیا ہے۔ یہ بیڑا 58 کشتیوں پر مشتمل تھا جس میں درجنوں کارکن اور امدادی سامان موجود تھا اور یہ اٹلی سے غزہ کی جانب رواں دواں تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی بحری افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں ان کشتیوں کا محاصرہ کر لیا۔ فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اہلکاروں نے تیز رفتار کشتیوں کے ذریعے ان کا پیچھا کیا، شرکاء پر لیزر لائٹس ڈالیں اور انہیں گھٹنے ٹیکنے کا حکم دیا۔ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں منتظمین نے اسے غیر قانونی کارروائی، تشدد کی دھمکی اور اغوا قرار دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق فلوٹیلا کی 11 کشتیوں سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے جبکہ اسرائیلی میڈیا کا دعوی ہے کہ یونانی جزیرے کریٹ کے قریب سات کشتیوں کو قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ فلوٹیلا کے ترجمان گر سابر نے اس کارروائی کو نہتے شہریوں پر براہ راست حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اسرائیل کو بین الاقوامی پانیوں میں ایسی مداخلت کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

اس مشن پر موجود ایک کارکن طارق رؤف نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے ان کے مواصلاتی چینلز جام کر دیے اور نفسیاتی دباؤ ڈالنے کے لیے اونچی آواز میں موسیقی چلائی۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اسرائیلی بحری جہازوں نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ان کا گھیراؤ کیا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے فلوٹیلا کے شرکاء کو خبطی مظاہرین قرار دیتے ہوئے دعوی کیا کہ اس مشن کو اسرائیلی حدود میں داخل ہونے سے قبل ہی ناکام بنا دیا گیا ہے۔ تاہم منتظمین کا موقف ہے کہ یہ مداخلت غزہ سے بہت دور بین الاقوامی پانیوں میں کی گئی جہاں اسرائیل کی کوئی قانونی عملداری نہیں بنتی۔

یہ انسانی امدادی مشن غزہ کے لیے کی جانے والی سب سے بڑی کوششوں میں سے ایک ہے جہاں جاری اسرائیلی فوجی آپریشن کے نتیجے میں انسانی بحران سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ گزشتہ برس اکتوبر میں بھی اسرائیل نے اسی طرح ایک فلوٹیلا کو روک کر 450 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کیا تھا۔

کشتیوں کے محاصرے کے بعد فلوٹیلا کے قائدین نے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ 400 سے زائد شہریوں کی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا نوٹس لیا جا سکے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -