-Advertisement-

کیمبرج کے اے ایس لیول ریاضی کے پرچے کے لیک ہونے کی تصدیق

تازہ ترین

غزہ امدادی قافلے پر اسرائیلی حملہ: 211 کارکنان اغوا، 22 کشتیاں قبضے میں

غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے فلوٹیلا کے منتظمین نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے...
-Advertisement-

کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن نے تصدیق کی ہے کہ جون 2026 کے امتحانی سلسلے کے دوران اے ایس لیول ریاضی کا پرچہ وقت سے پہلے لیک ہوا جو کہ ادارے کے ضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ پرچہ پاکستان سمیت افریقہ، یورپ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے خطوں میں لیا گیا تھا۔

کیمبرج کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ادارے کو اے ایس لیول میتھمیٹکس پیپر 12 کوڈ 9709 کے وقت سے پہلے شیئر ہونے کا علم ہے۔ بورڈ اس واقعے کی فوری اور مکمل تحقیقات کر رہا ہے تاکہ لیک کی نوعیت کا تعین کیا جا سکے اور آئندہ کے لائحہ عمل کو حتمی شکل دی جا سکے۔

بورڈ نے طلبہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی اولین ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ کسی بھی طالب علم کو اس واقعے سے نقصان نہ پہنچے۔ کیمبرج کا کہنا ہے کہ امتحانات کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے تمام تر اقدامات کیے جا رہے ہیں اور طلبہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے آئندہ کے امتحانات کی تیاری جاری رکھیں۔

کیمبرج حکام کے مطابق اس معاملے پر حتمی فیصلے تجربہ کار ماہرین کریں گے تاکہ نتائج کی ساکھ کو برقرار رکھا جا سکے اور یونیورسٹیاں ان نتائج پر بدستور اعتماد کر سکیں۔ بورڈ نے اعتراف کیا کہ امتحانی پرچے کا لیک ہونا ایک غیر معمولی واقعہ ہے اور بدعنوانی میں ملوث مراکز یا طلبہ کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

ادارے نے طلبہ اور تعلیمی اداروں سے صبر کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ اس معاملے پر پیش رفت سے متعلق اگلی اپ ڈیٹ 7 مئی کو جاری کی جائے گی۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق یہ پرچہ امتحان سے کئی گھنٹے قبل ریڈٹ اور واٹس ایپ کے ذریعے وائرل ہوا تھا، جبکہ بعض دعووں کے مطابق پرچہ ایک ایپلی کیشن کے ذریعے فروخت بھی کیا گیا۔

کراچی کے ایک نجی اسکول کے امتحانی مرکز میں طلبہ نے پرچہ شروع ہونے سے قبل ہی سوشل میڈیا پر سوالنامہ موجود ہونے پر احتجاج کیا اور برٹش کونسل کے نمائندوں کو اپنے تحریری بیانات جمع کرائے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے ان کے حاصل کردہ نمبروں اور میرٹ پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -