-Advertisement-

اٹلی کی جانب سے غزہ امدادی قافلے کو روکنے پر اسرائیل کی شدید مذمت

تازہ ترین

اسرائیلی بحریہ کی غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا کے جہازوں پر کارروائی، عملہ حراست میں

غزہ کی سمندری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے 22 جہازوں کو اسرائیلی بحریہ...
-Advertisement-

اٹلی نے غزہ جانے والے امدادی جہازوں کو قبضے میں لینے پر اسرائیل کی شدید مذمت کی ہے اور غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے تمام اطالوی شہریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق روم نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے اور جہاز پر سوار افراد کی حفاظت کو یقینی بنائے۔

اسرائیلی فوج نے بدھ کی رات یونان کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں ان جہازوں کو روکا۔ امدادی قافلے کا انتظام کرنے والی تنظیم گلوبل صمود فلوٹیلا نے اس کارروائی کو جنگ زدہ فلسطینی علاقے کے لیے انسانی امداد لے جانے والی کشتیوں کے خلاف بحری قزاقی قرار دیا ہے۔ اطالوی حکومت نے حراست میں لیے گئے شہریوں کی درست تعداد ظاہر نہیں کی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اطالوی حکومت بین الاقوامی قوانین کے دائرہ کار میں رہ کر غزہ کو انسانی امداد کی فراہمی جاری رکھنے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔ اٹلی کی دائیں بازو کی حکومت یورپی ممالک میں اسرائیل کی قریبی اتحادی سمجھی جاتی ہے تاہم حالیہ ہفتوں میں روم نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی کھل کر مخالفت کی ہے جن میں سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر اٹلی رواں ماہ اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کا معاہدہ بھی معطل کر چکا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل غزہ کی پٹی تک رسائی پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے اور وہاں امدادی سامان کی ترسیل روکنے کے الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ فلوٹیلا میں شامل افراد محض توجہ حاصل کرنے کے لیے اشتعال انگیزی پھیلا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ اسی تنظیم نے گزشتہ برس اکتوبر میں بھی غزہ تک پہنچنے کی کوشش کی تھی جسے اسرائیلی فوج نے ناکام بنا دیا تھا۔ اس کارروائی کے دوران سویڈن کی کارکن گریٹا تھنبرگ سمیت ساڑھے چار سو سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -