-Advertisement-

ایران کی جوہری مذاکرات سے قبل آبنائے کھولنے کی پیشکش ٹرمپ نے مسترد کر دی

تازہ ترین

شہر میں پانی کا شدید بحران، متعدد علاقے چھ روز سے سپلائی سے محروم

تین کروڑ سے زائد آبادی والے شہر کراچی کو شدید گرمی کی لہر کے دوران پانی کے سنگین بحران...
-Advertisement-

برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ لندن میں دو یہودی شہریوں پر چاقو کے حملے کے بعد حکومت بعض حالات میں فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں پر پابندی عائد کرنے پر غور کر سکتی ہے۔ سٹارمر کے مطابق ان مظاہروں کے یہودی برادری پر مرتب ہونے والے مجموعی اثرات انتہائی تشویشناک ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے واضح کیا کہ اگرچہ وہ اظہار رائے کی آزادی اور پرامن احتجاج کے حق کا دفاع کرتے ہیں تاہم مظاہروں کے دوران عالمی سطح پر انتفاضہ جیسے نعرے لگانا مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور ایسے نعرے لگانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔

اکتوبر 2023 میں حماس کے اسرائیل پر حملے اور غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے لندن میں فلسطین کے حق میں مظاہرے ایک معمول بن چکے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں نے معاشرے میں دشمنی کو ہوا دی ہے اور یہ یہود دشمنی کا مرکز بن چکے ہیں۔ دوسری جانب مظاہرین کا موقف ہے کہ وہ اپنے جمہوری حق کا استعمال کرتے ہوئے غزہ کی صورتحال اور انسانی حقوق کے مسائل کو اجاگر کر رہے ہیں۔

کیئر سٹارمر نے تسلیم کیا کہ مشرق وسطیٰ اور غزہ کے حوالے سے عوام کے مضبوط اور جائز جذبات موجود ہیں تاہم یہودی برادری کے متعدد ارکان نے ان سے ان مظاہروں کے تسلسل پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کو احتجاجی مظاہروں اور ان کے مجموعی اثرات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور اس ضمن میں مزید اختیارات حاصل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ کچھ حالات میں مظاہروں پر مکمل پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

برطانیہ نے جمعرات کے روز دہشت گردی کے خطرے کی سطح کو سنگین قرار دیا ہے۔ سکیورٹی خدشات میں اضافے کے پیش نظر حکام کا کہنا ہے کہ غیر ملکی عناصر تشدد کو ہوا دینے میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ کاؤنٹر ٹیررازم پولیس کے سربراہ لارنس ٹیلر نے ایک بیان میں کہا کہ برطانیہ میں یہودی اور اسرائیلی افراد اور اداروں کو بلند سطح کا خطرہ لاحق ہے اور پولیس ریاستی حمایت یافتہ عناصر کی جانب سے لاحق جسمانی خطرات سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -