صدر مملکت آصف علی زرداری نے عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان بطور ریاست آئینی ضمانت اور جمہوری ضرورت کے طور پر آزادی صحافت کے عزم پر قائم ہے۔ تین مئی کو منائے جانے والے اس عالمی دن پر صدر مملکت نے پاکستان اور دنیا بھر کے صحافیوں، ایڈیٹرز اور میڈیا ورکرز کو مبارکباد پیش کی۔
صدر زرداری نے کہا کہ اس برس کا موضوع امن کے مستقبل کی تشکیل اس بنیادی حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ سچائی کے بغیر امن ممکن نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آج غلط معلومات عوامی اعتماد کو مجروح کر رہی ہیں جبکہ مصنوعی ذہانت کے فوائد کے ساتھ ساتھ اس کے خطرات بھی موجود ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ عالمی سطح پر صحافی ہراسانی، قانونی دھمکیوں اور جسمانی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔
صدر مملکت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج آزاد صحافت کو غیر ریاستی عناصر بالخصوص بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمپنیاں اکثر اوقات محنت کش عوام اور مظلوم اقوام کے خلاف اپنے الگورتھمز کا استعمال کرتی ہیں۔
آئین پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ آرٹیکل انیس آزادی صحافت کی ضمانت دیتا ہے جبکہ اٹھارویں ترمیم کے تحت شامل آرٹیکل انیس اے عوام کے حق معلومات کو یقینی بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک آزاد اور متنوع میڈیا کسی قوم کے لیے خطرہ نہیں بلکہ اس کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔
صدر نے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ آزادی کے ساتھ ذمہ داری کا بھی مظاہرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ درستگی کو رفتار پر قربان نہیں کیا جانا چاہیے اور عوامی اعتماد کو ہر صورت محفوظ رکھا جائے۔
پاکستان کے خلاف مہم جوئی کا ذکر کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ غلط معلومات کی مہمات کا مقصد قومی ہم آہنگی کو کمزور کرنا ہے۔ انہوں نے مئی ۲۰۲۵ میں آپریشن بنیان المرصوص کے دوران میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے حقائق کے ذریعے دشمن کے پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دیا اور ایک مضبوط دیوار کی طرح کھڑا رہا۔
صدر مملکت نے تنازعات والے علاقوں میں جان قربان کرنے والے صحافیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ صحافیوں کے لیے محفوظ ماحول اور سازگار قوانین یقینی بنائیں۔ انہوں نے میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ سخت اخلاقی معیارات اپنائیں تاکہ ایک ایسا معلوماتی نظام تشکیل دیا جا سکے جو ذمہ دار اور سچائی پر مبنی ہو۔
