-Advertisement-

علاقائی جنگ کے سائے: عراق کے مقدس شہر زائرین سے خالی

تازہ ترین

ایران: حکومت مخالف مظاہروں میں ملوث تین افراد کو پھانسی دے دی گئی

ایرانی حکام نے پیر کے روز تصدیق کی ہے کہ دسمبر اور جنوری میں ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے...
-Advertisement-

عراق کے مقدس شہر نجف میں واقع حضرت علی علیہ السلام کا مزار زائرین کی کمی کے باعث ویرانی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے نتیجے میں دنیا بھر سے آنے والے زائرین کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے مقامی معیشت شدید بحران کا شکار ہے۔

نجف کے قدیم بازار میں 38 برس سے زیورات کا کاروبار کرنے والے 71 سالہ عبدالرحیم ہرموش کا کہنا ہے کہ ماضی میں ایرانی زائرین سمیت دیگر ممالک کے عقیدت مندوں کی آمد سے بازار میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی، مگر اب صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر بحران برقرار رہا تو دکاندار کرایوں اور ٹیکسوں کی ادائیگی سے قاصر ہو جائیں گے جبکہ مزدور طبقہ روزگار سے محروم ہو جائے گا۔

نجف میں ہوٹل ایسوسی ایشن کے سربراہ صاحب ابو غنیم کے مطابق شہر کے 250 ہوٹلوں میں سے 80 فیصد بند ہو چکے ہیں اور دو ہزار سے زائد ملازمین کو فارغ یا بلا معاوضہ چھٹیوں پر بھیج دیا گیا ہے۔ ہوٹل کے مالک 52 سالہ ابو علی نے بتایا کہ گاہک نہ ہونے کے باعث وہ اپنے پانچ ملازمین کو نوکری سے نکالنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

نجف کی طرح کربلا میں بھی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ کربلا کی سیاحتی کمیٹی کی سربراہ اسراء النصراوی نے اسے ایک المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کے باعث سیاحوں کی تعداد میں 95 فیصد کمی آئی ہے، جس نے شہر کی معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔

فروری کے آخر میں ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہونے والی کشیدگی نے ایران، لبنان، خلیجی ممالک، بھارت اور افغانستان سمیت دیگر خطوں سے آنے والے زائرین کا راستہ روک دیا ہے۔ اگرچہ 8 اپریل کو جنگ بندی کے بعد عراقی فضائی حدود کھول دی گئی تھیں، تاہم زائرین کی تعداد میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔

سیاحت کا شعبہ، جو عراق کی غیر تیل معیشت کا اہم حصہ ہے، اب مکمل جمود کا شکار ہے۔ ٹور آپریٹرز کا کہنا ہے کہ ان کا کاروبار اپنی گنجائش کے صرف 10 فیصد پر چل رہا ہے اور بہت سے لوگ متبادل روزگار تلاش کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -