ایمسٹرڈیم دنیا کا پہلا دارالحکومت بن گیا ہے جہاں عوامی مقامات پر گوشت اور فاسل فیولز سے متعلق اشتہارات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد شہریوں کو ماحولیاتی آلودگی کا باعث بننے والی مصنوعات کی خریداری سے روکنا اور کاربن کے اخراج میں کمی لانا ہے۔
یکم مئی سے نافذ ہونے والی اس پابندی کے تحت فضائی کمپنیوں، پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں، گوشت اور کروز جہازوں کے اشتہارات پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہ قانون گرین لیفٹ اور پارٹی فار دی اینیملز کی مشترکہ قانون سازی کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے۔
ایمسٹرڈیم کی کونسلر اینیک وین ہوف کا کہنا ہے کہ اگر حکومت موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے اربوں روپے خرچ کر رہی ہے تو پھر عوامی دیواروں پر انہی چیزوں کی تشہیر کرنا تضاد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ کسی لت سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہر جگہ اس کا اشتہار دیکھنا مددگار ثابت نہیں ہوتا۔
اس سے قبل 2022 میں ہالینڈ کے شہر ہارلیم نے گوشت کے اشتہارات پر پابندی کا اعلان کیا تھا جو بعد ازاں قانون کا حصہ بن گیا۔ جبکہ دی ہیگ نے 2025 میں فاسل فیولز کے اشتہارات پر قانونی پابندی عائد کرنے والا پہلا شہر ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔
دوسری جانب ڈچ ایڈورٹائزرز ایسوسی ایشن سمیت دیگر تجارتی تنظیموں نے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ یہ پابندیاں تجارتی آزادی اور اظہار رائے کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہیں۔ ڈچ میٹ ایسوسی ایشن نے اسے صارفین کے رویوں کو زبردستی تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
عالمی سطح پر 50 سے زائد شہروں نے کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے ایسی ہی پابندیوں پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جون 2024 میں دنیا بھر میں تیل، گیس اور کوئلے کی تشہیر پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ ماحولیاتی بحران کے تناظر میں انسانیت خود خطرے میں ہے اور خود ہی خطرہ بن چکی ہے۔
