پنجاب حکومت نے پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) میں نظم و ضبط کو یقینی بنانے اور کرپشن کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث اہلکاروں کو معمولی سزاؤں کے بجائے تین سال قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے پیرا کے تمام عملے کے ریکارڈ کی مکمل جانچ پڑتال کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے پیرا کے چوتھے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہدایت کی کہ 30 جون تک تمام فیلڈ اہلکاروں کی وردیوں پر باڈی کیمرے نصب کیے جائیں۔ انہوں نے ادارے کے چار ہزار افسران اور اہلکاروں کی فوری سکروٹنی کرنے کا حکم بھی دیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ادارے کے اندرونی انٹیلیجنس اور وسل بلور سسٹم کو مزید جدید بنایا جائے گا تاکہ بدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف مثالی کارروائی ممکن ہو سکے۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پیرا نے آئی ایس او سرٹیفکیشن حاصل کر لی ہے اور پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتیاں مکمل کی جا رہی ہیں۔ کل آٹھ ہزار کی نفری میں سے 4700 سے زائد آسامیاں پر ہو چکی ہیں۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کی تربیت یکم جون سے شروع ہوگی جبکہ انفورسمنٹ اور انویسٹی گیشن افسران کو ریسکیو 1122 اور پولیس ٹریننگ کالج چونگ میں تربیت فراہم کی جائے گی۔ جون کے آخر تک سات ہزار سے زائد اہلکار تعینات کر دیے جائیں گے اور صوبے بھر میں 155 میں سے 133 انفورسمنٹ اسٹیشنز فعال ہو چکے ہیں۔
ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے خلاف کارروائیوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اب تک 11 ایف آئی آر درج، 6557 گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں اور دو کروڑ روپے سے زائد جرمانے عائد کیے گئے۔ تجاوزات کے خلاف آپریشنز میں 9 ہزار کنال سے زائد اراضی واگزار کرائی گئی جبکہ صوبے بھر میں 2 لاکھ 62 ہزار سے زائد چھاپے مارے گئے۔
پیرا کے آپریشنز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پیرا 360 ڈیش بورڈ تیار کیا جا رہا ہے جس کے تحت تمام چالان ڈیجیٹل ہوں گے، جبکہ موجودہ کنوکشن ریٹ 97 فیصد ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے ایک سال کے اندر کلر کہار، مری یا کوٹلی ستیاں میں پیرا کی مخصوص ٹریننگ اکیڈمی کے قیام کی تجویز کی بھی منظوری دے دی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ تادیبی خلاف ورزیوں پر 1356 انکوائریز شروع کی گئیں، 304 سزائیں دی گئیں اور 7 اہلکاروں کو نوکری سے برخاست کیا جا چکا ہے۔
