اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں متحدہ عرب امارات کا ایک خفیہ دورہ کیا ہے جس کے دوران انہوں نے صدر محمد بن زاید سے ملاقات کی۔ سی بی ایس نیوز کے ذرائع کے مطابق اس ملاقات کے بعد اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے دورے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے حکام کی جانب سے اس دورے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے گزشتہ ماہ ایران پر فضائی حملے کیے تھے، تاہم اماراتی حکومت نے عوامی سطح پر ان کارروائیوں کی تصدیق نہیں کی ہے۔
اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی نے منگل کے روز تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کو آئرن ڈوم فضائی دفاعی نظام اور عملہ فراہم کیا ہے، جس کی تصدیق دیگر ذرائع نے بھی کی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق بنجمن نیتن یاہو اس سے قبل 2018 میں بھی متحدہ عرب امارات کا دورہ کر چکے ہیں جہاں انہوں نے محمد بن زاید سے ملاقات کی تھی۔ واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات وہ پہلا ملک تھا جس نے 2020 میں امریکا کی ثالثی میں ہونے والے ابراہیم معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت اسرائیل اور چار عرب ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات معمول پر آئے تھے۔
