امریکی ریاست مین میں طلبا کے لیے لیپ ٹاپ کی فراہمی کا طویل المدتی پروگرام شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ 15 برسوں کے دوران اس منصوبے پر سالانہ 12 ملین ڈالر خرچ کیے گئے، تاہم اس کے باوجود تعلیمی نتائج اور ٹیسٹ سکورز میں کوئی بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔
اس اقدام کا مقصد کلاس رومز کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور تعلیمی عدم مساوات کو ختم کرنا تھا۔ ریاست کے سابق گورنر پال لی پیج نے اس منصوبے کو ایک بڑی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ اس سے تعلیمی کارکردگی میں کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں ہوا۔
رپورٹس کے مطابق اس پروگرام کے اثرات مختلف علاقوں میں یکساں نہیں رہے۔ امیر تعلیمی اضلاع کے طلبا نے لیپ ٹاپس کو تخلیقی کاموں کے لیے استعمال کیا، جبکہ پسماندہ اور دیہی علاقوں میں لیپ ٹاپس کا استعمال صرف ورڈ اور پاور پوائنٹ جیسے بنیادی ٹولز تک محدود رہا، جس سے تعلیمی فرق کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گیا۔
یہ پروگرام امریکا بھر میں جاری اس وسیع تر رجحان کا حصہ ہے جس کے تحت سال 2024 میں تعلیمی ٹیکنالوجی پر اخراجات کا تخمینہ 30 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جو نصابی کتب کے بجٹ سے کہیں زیادہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھاری سرمایہ کاری کے باوجود طلبا کی تعلیمی کامیابیوں کا تناسب اخراجات کے مطابق نہیں بڑھا۔
کلاسیز میں سکرین کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بھی شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اساتذہ کا اندازہ ہے کہ طلبا درس و تدریس کے دوران کئی گھنٹے ڈیجیٹل ڈیوائسز پر صرف کرتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ تعلیمی ماحول میں لیپ ٹاپ کا ایک بڑا حصہ غیر نصابی سرگرمیوں میں استعمال ہوتا ہے، جہاں سوشل میڈیا جیسی تفریحی ایپس طلبا کی توجہ کا مرکز بنی رہتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل لرننگ حکمت عملیوں کی افادیت پر سوالات اٹھاتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مغربی ممالک میں نئی نسل کی تعلیمی کارکردگی میں گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ تعلیمی محققین کا استدلال ہے کہ مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اس کا استعمال ہے، کیونکہ سیکھنے کے لیے بنائی گئی ڈیوائسز اکثر انتہائی دلکش تفریحی پلیٹ فارمز کے مقابلے میں ناکام ہو جاتی ہیں۔
بھارت سے تعلق رکھنے والے ڈھائی سو سے زائد افراد جمعرات کے روز تل ابیب…
پیرس نے پہلی بار موڈیسٹ فیشن ویک کی میزبانی کی ہے جس میں تقریباً 30…
اسلام آباد میں ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے چیف آف ڈیفنس فورسز…
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے روز اسلام آباد میں چیف آف آرمی…
ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے ایران اور امریکہ کے درمیان متوقع مذاکرات کے…
صدر آصف علی زرداری 25 اپریل سے یکم مئی 2026 تک چین کا سرکاری دورہ…