کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین الزامات کی زد میں آ گیا ہے اور یہ انکشاف ہوا ہے کہ پولیس حکام مبینہ طور پر پانی چوروں کے خلاف کارروائی کے بجائے انہیں تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔
تنازع کا مرکز واٹر کارپوریشن پولیس اسٹیشن ہے جہاں کے ایس ایچ او مظہر اقبال اعوان پر گلشن اقبال کے ایک آر او فلٹر پلانٹ کے مالک نے بھتہ خوری اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام عائد کیا ہے۔
آر او فلٹر پلانٹ کے مالک وقاص ملک نے آئی جی سندھ اور دیگر اعلیٰ پولیس حکام کو تحریری شکایت ارسال کی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کا پلانٹ 2023 سے سندھ فوڈ اتھارٹی کے لائسنس کے تحت قانونی طور پر کام کر رہا ہے تاہم ایس ایچ او نے ان سے بھتے کا مطالبہ کیا اور انکار پر انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔
متاثرہ شہری کے مطابق انہوں نے 2024 کے ضوابط کے تحت واٹر کارپوریشن میں سب سائل یا بور واٹر لائسنس کے حصول کے لیے درخواست دے رکھی ہے۔ وقاص ملک کا دعویٰ ہے کہ رشوت نہ دینے پر ایس ایچ او نے واٹر کارپوریشن کے کچھ افسران کے ساتھ ملی بھگت کر کے ان کے خلاف پانی چوری کا جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ درج کر لیا۔
ایف آئی آر میں سیکشن 2/39 کے تحت پانی چوری کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ تاہم وقاص ملک کا کہنا ہے کہ یہ قانون صرف ان صورتوں میں لاگو ہوتا ہے جب واٹر کارپوریشن کی مین سپلائی لائنوں سے غیر قانونی کنکشن کے ذریعے پانی چوری کیا جائے، جبکہ ان کا معاملہ اس زمرے میں نہیں آتا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…
عالمی شہرت یافتہ فلم ساز پیٹر جیکسن نے کانز فلم فیسٹیول کے دوران ایک ماسٹر…
بلوچستان کے ضلع بارکھان میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر آپریشن کے دوران بھارت…
آسٹریلیا نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حمل کو محفوظ بنانے کے…
بلوچستان کے ضلع بارکھان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران ایک میجر سمیت پانچ…