Categories: News

امریکی عہدیدار کا دعویٰ: ایران کے ساتھ جنگ بندی سے جنگی اختیارات کی ڈیڈ لائن ختم ہو گئی

واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپریل کے اوائل میں شروع ہونے والی جنگ بندی کے بعد عسکری کارروائیاں ختم ہو چکی ہیں۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ کو کانگریس کی جانب سے دی گئی جنگی اختیارات کی ڈیڈ لائن کا سامنا تھا۔

انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے جمعرات کو واشنگٹن میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وار پاورز ریزولیوشن کے مقاصد کے تحت 28 فروری کو شروع ہونے والی دشمنی اب اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکی ہے۔ حکومتی موقف کے مطابق تین ہفتوں سے زائد عرصے سے جاری کمزور جنگ بندی کے دوران دونوں جانب سے فائرنگ کا کوئی تبادلہ نہیں ہوا ہے۔

صدر ٹرمپ کو جمعہ تک یہ فیصلہ کرنا تھا کہ یا تو وہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کریں یا پھر اس میں توسیع کے لیے کانگریس کو قائل کریں۔ تاہم حکومتی عہدیداروں کا اشارہ ہے کہ جنگی حکمت عملی میں کسی بڑی تبدیلی کے بغیر ہی یہ تاریخ گزر جائے گی کیونکہ انتظامیہ جنگ بندی کو ہی تنازع کے خاتمے کا ثبوت مانتی ہے۔

امریکی قانون کے تحت صدر کو فوجی کارروائی کے لیے 60 دن کا وقت حاصل ہوتا ہے جس کے بعد انہیں کانگریس سے اجازت لینی پڑتی ہے یا پھر ناگزیر فوجی ضرورت کے تحت 30 دن کی توسیع مانگنی پڑتی ہے۔ یہ جنگ 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے فضائی حملوں سے شروع ہوئی تھی جس کی اطلاع 48 گھنٹے بعد کانگریس کو دی گئی تھی، جس کے نتیجے میں یکم مئی کی ڈیڈ لائن مقرر ہوئی تھی۔

وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے سینیٹ کی سماعت کے دوران موقف اختیار کیا کہ جنگ بندی کے دوران 60 روزہ مدت کی گنتی رک گئی تھی۔ تاہم اپوزیشن ڈیموکریٹس نے اس قانونی تشریح کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قانون میں ایسی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔

امریکی آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے تاہم انتظامیہ ان کارروائیوں کو قلیل مدتی یا فوری خطرات کے تدارک کے طور پر پیش کرتی رہی ہے۔ کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ریپبلکن پارٹی کو معمولی اکثریت حاصل ہے جس کی وجہ سے ڈیموکریٹس کی جانب سے امریکی افواج کے انخلا یا کانگریس کی اجازت لازمی قرار دینے کی تمام تر کوششیں ناکام رہی ہیں۔

واضح رہے کہ 28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد تہران نے اسرائیل اور خلیجی ریاستوں میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا۔ اس تنازع کے نتیجے میں اسرائیل اور امریکہ کے حملوں سے ایران اور لبنان میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

1 مہینہ ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

1 مہینہ ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

1 مہینہ ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

1 مہینہ ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

1 مہینہ ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

1 مہینہ ago