تہران میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ تہران تاحال امریکی تجاویز کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی پیشکش پر ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے اور نہ ہی واشنگٹن کو اس حوالے سے کوئی باضابطہ جواب بھیجا گیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اگر امریکہ غیر منصفانہ شرائط، دھمکی آمیز رویے اور اشتعال انگیز اقدامات سے دستبردار ہو جائے تو ایران سفارت کاری اور مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام اور وائٹ ہاؤس کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان دشمنی کے خاتمے اور جوہری مذاکرات کے نئے فریم ورک کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک صفحے پر مشتمل مفاہمت کی یادداشت تیار کر لی گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے کو ایک ہفتے کے اندر حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے جلد کوئی سمجھوتہ نہ کیا تو امریکہ مزید حملے کر سکتا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…