اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت توانائی کے تحفظ اور کفایت شعاری کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں علاقائی کشیدگی کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی لائن کو محفوظ بنانے پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش ہیں اور ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے اضافی انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم کی بروقت ہدایات کے باعث ایندھن کے ذخائر کا انتظام موثر انداز میں چلایا جا رہا ہے۔
خطے اور خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی موجودہ غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر ایندھن کی سپلائی میں خلل کے خدشات موجود ہیں۔ اس ضمن میں حکومت نے آئندہ چند روز میں مزید بچتی اقدامات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے تمام صوبوں کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع لائحہ عمل تیار رکھا جائے۔
موجودہ کفایت شعاری پالیسیوں کے ثمرات کا جائزہ لیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ ان اقدامات سے عوام کو ریلیف ملا ہے۔ ان ہدایات پر عمل درآمد کی نگرانی انٹیلی جنس بیورو سمیت متعلقہ ادارے کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے سرکاری افسران اور عوام پر زور دیا کہ وہ اجتماعی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ایندھن کی بچت کے لیے کار پولنگ اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
وزیراعظم نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ حالات معمول پر آنے تک ہنگامی اقدامات کے لیے مکمل تیار رہیں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ ایندھن کی سپلائی کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی بے قاعدگی کی صورت میں فوری کارروائی کی جا سکے۔
اجلاس میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احسن خان چیمہ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، وزیر آئی ٹی شیزا فاطمہ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ 2026 کے مطابق فن لینڈ دنیا کا خوش ترین ملک قرار…
نئی دہلی میں شوال کا چاند نظر نہ آنے کے بعد بھارت میں عید الفطر…
ریاض میں منعقدہ عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ایران کے…
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کو بیس روز مکمل ہو چکے…
تجارتی سیٹلائٹ کمپنیاں ایران اور مشرق وسطیٰ کے حساس علاقوں کی تصاویر تک رسائی کو…
اسلام آباد میں سرکاری حکام کی جانب سے غیر ملکی دوروں کے دوران موصول ہونے…