جنگ کا بیسواں روز: توانائی کے مراکز پر حملوں سے خطے میں مکمل جنگ کا خطرہ

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کو بیس روز مکمل ہو چکے ہیں اور خطہ ایک وسیع علاقائی جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ تصادم کا رخ اب عسکری تنصیبات سے ہٹ کر توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی کی جانب مڑ چکا ہے، جس نے عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔

گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اسرائیل نے ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ سے منسلک تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں ایران نے انتہائی جارحانہ ردعمل کا مظاہرہ کیا۔ ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کی زد میں قطر کا راس لافان ایل این جی حب، کویت کی بڑی ریفائنریز، اور سعودی عرب و بحرین کے توانائی مراکز رہے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 113 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ یورپی گیس کی قیمتوں میں 27 سے 30 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

آبنائے ہرمز اس کشمکش کا مرکزی نقطہ بنی ہوئی ہے، جہاں تہران اپنی شرائط پر محدود نقل و حمل کی اجازت دے رہا ہے۔ تاہم، توانائی کے مراکز پر حملوں کے بعد اس محتاط حکمت عملی کا تسلسل اب غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ دوسری جانب، امریکہ نے خطے میں مزید ہزاروں فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن واشنگٹن کو ایک موثر بین الاقوامی اتحاد بنانے میں مشکلات کا سامنا ہے جو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ بنا سکے۔

سعودی عرب کی جانب سے عرب اور مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا، جس کا مقصد خطے کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرنا تھا۔ تاہم، اس اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ کسی ٹھوس پیش رفت یا جنگ کو روکنے کے لیے موثر ثابت نہیں ہو سکا۔ عرب حکمرانوں کی جانب سے ایران کے حوالے سے تحفظات کے باعث سفارتی کوششیں عسکری شدت پسندی کے مقابلے میں سست روی کا شکار ہیں۔

میدانِ جنگ میں حزب اللہ نے جنوبی لبنان کے علاقے طیبہ میں اسرائیلی فورسز کے خلاف اہم ٹیکٹیکل کامیابیاں حاصل کی ہیں اور گائیڈڈ میزائلوں سے اسرائیل کے کم از کم چھ مرکوا ٹینک تباہ کر دیے ہیں۔ عراقی مزاحمتی گروپوں نے بیروت پر اسرائیلی بمباری رکنے کی شرط پر بغداد میں امریکی سفارتخانے پر حملے روکنے کی پیشکش کی ہے، جبکہ یمن کے حوثیوں نے یو ایس ایس تریپولی کی آمد پر نئی انتباہ جاری کی ہے۔

جنگ کے بیسویں دن تک صورتحال یہ ہے کہ توانائی کے شعبے کو ہدف بنانے سے فریقین کے لیے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے اور کنٹرولڈ کشیدگی کے امکانات تیزی سے معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ بدلتی ہوئی صورتحال پورے خطے کو ایک غیر متوقع اور تباہ کن انجام کی جانب دھکیل رہی ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

پشاور زلمی نے حیدرآباد کنگز مین کو شکست دے کر دوسری بار پی ایس ایل کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا

پشاور زلمی نے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل میں حیدرآباد کنگز مین…

49 منٹس ago

روہیلاں والی: سڑک پر خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش، ریسکیو 1122 کی بروقت امداد

روہیلاں والی کی گلی میں ایک خاتون نے نیم بے ہوشی کی حالت میں بچے…

54 منٹس ago

خطے میں کشیدگی: ایران کا آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے نئے قوانین متعارف کرانے کا فیصلہ

تہران (ویب ڈیسک) ایران کی پارلیمنٹ نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی…

2 گھنٹے ago

ایران کا پاکستان کے ذریعے موصول ہونے والے امریکی جواب کا جائزہ لینے کا اعلان

ایران نے اتوار کے روز تصدیق کی ہے کہ اسے پاکستان کے توسط سے موصول…

2 گھنٹے ago

ایران کے ساحلی شہر سریک کے قریب کارگو جہاز پر حملہ، برطانوی میری ٹائم ایجنسی کی تصدیق

ایران کے ساحلی شہر سیرک کے مغرب میں ایک کارگو جہاز پر چھوٹی کشتیوں کے…

2 گھنٹے ago

یوکرینی ڈرون حملے: روس کی اہم آئل تنصیبات اور ‘شیڈو فلیٹ’ کے دو ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا

یوکرین نے اتوار کے روز روس کے تیل کی تنصیبات اور بندرگاہوں کو ڈرون حملوں…

3 گھنٹے ago