خیبر پختونخوا میں گزشتہ تین روز سے جاری شدید بارشوں نے تباہی مچا دی ہے جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 18 افراد جاں بحق جبکہ 72 زخمی ہو گئے ہیں۔
ایبٹ آباد، بنوں، شمالی وزیرستان، لکی مروت، حویلیاں اور نوشہرہ سمیت مختلف اضلاع میں مکانات کی چھتیں اور دیواریں گرنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔
موسمیاتی صورتحال کے باعث 9 مکانات مکمل طور پر منہدم ہو چکے ہیں جبکہ 51 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے یکم اپریل سے 4 اپریل تک مزید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے جس کے پیش نظر بالائی علاقوں میں گلیشیئرز پگھلنے اور جھیلیں ابلنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے متاثرہ پانچ اضلاع کی انتظامیہ کو ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ جاری بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور الرٹ رہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…