اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بدھ کے روز نوعمر افراد کے لیے بینکنگ اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل والٹس کا ایک نیا فریم ورک متعارف کروا دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک کے نوجوانوں کو خود مختار بنانا ہے تاکہ وہ اپنے مالی معاملات کو آزادانہ طور پر سنبھال سکیں۔
مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ فریم ورک 13 سے 18 سال کی عمر کے تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ نوجوانوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس سہولت کے ذریعے نوجوان محفوظ بچت کرنے اور ڈیجیٹل لین دین کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے قابل ہو سکیں گے۔
اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بالغ افراد کی بینکنگ تک رسائی 67 فیصد تک پہنچ چکی ہے، تاہم اب تک نوعمر افراد صرف مشترکہ یا والدین کے زیر نگرانی اکاؤنٹس تک محدود تھے۔ اس نئے فریم ورک کا مقصد اس خلا کو پُر کرنا ہے تاکہ نوجوانوں میں مالی ذمہ داری اور ڈیجیٹل مہارتوں کو فروغ دیا جا سکے۔
یہ اقدام اسٹیٹ بینک کے اسٹریٹجک پلان 2023-28 اور نیشنل فائننشل انکلوژن اسٹریٹجی 2024-28 کا اہم حصہ ہے۔ حکام کے مطابق اس سے نہ صرف نوجوانوں میں مالی خواندگی بڑھے گی بلکہ وہ مستقبل میں ملکی معاشی ترقی میں بھی فعال کردار ادا کر سکیں گے۔
یاد رہے کہ پاکستان کی جانب سے نوجوانوں کو مالی طور پر بااختیار بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کو بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا ہے، جس کے اعتراف میں اسٹیٹ بینک کو گزشتہ برس اے ایف آئی گلوبل یوتھ فائننشل انکلوژن ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔
اسٹیٹ بینک نے مزید واضح کیا کہ نوعمروں کو بینکنگ نظام کا حصہ بنانا ایک ایسی ڈیجیٹل نسل کی تشکیل کی جانب قدم ہے جو جدید معاشی تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…