پاکستان پر واجب الادا کل قرضوں کا حجم اکیاسی کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ ملک کے مجموعی قرضوں میں چھبیس کھرب روپے بیرونی جبکہ پچپن کھرب روپے مقامی قرضے شامل ہیں۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس کے دوران حکام نے بتایا کہ اس قرض میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف کی واجب الادا رقوم بھی شامل ہیں۔ کمیٹی کو فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملکی آبادی پچیس کروڑ نفوس پر مشتمل ہے جس کے تناسب سے فی کس قرض کا بوجھ تین لاکھ پچیس ہزار روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔
اجلاس میں ملکی معیشت پر بڑھتے ہوئے مالیاتی دباؤ پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ حکام نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل میں معاشی استحکام کے لیے قرضوں کے انتظام کی حکمت عملی کو مزید محتاط اور مربوط بنانے کی اشد ضرورت ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…