خیبر پختونخوا میں گزشتہ گیارہ روز سے جاری موسلا دھار بارشوں نے تباہی مچا دی ہے جس کے نتیجے میں چھتیں اور دیواریں گرنے کے واقعات میں کم از کم 30 افراد جاں بحق جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 85 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
بارشوں کا یہ سلسلہ ایبٹ آباد، بنوں، شمالی وزیرستان، لکی مروت، حویلیاں، نوشہرہ، جمرود اور باڑہ سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں تاحال جاری ہے۔ قدرتی آفات کے باعث اب تک 25 مکانات مکمل طور پر منہدم ہو چکے ہیں جبکہ 115 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اتھارٹی کی جانب سے گلیشیئرز پگھلنے کے نتیجے میں جھیلیں ابلنے کے خدشے کے پیش نظر پانچ اضلاع کی انتظامیہ کو ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…