شمالی وزیرستان کے علاقے غلام خان میں سیکیورٹی فورسز نے سرحد پار سے ہونے والے دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بناتے ہوئے بھرپور جوابی کارروائی کی ہے۔ حکام کے مطابق اس کارروائی میں فتنہ الخوارج کے 37 دہشت گرد ہلاک اور 80 سے زائد زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ 2 اور 3 اپریل کی درمیانی شب پیش آیا جب دہشت گردوں نے سرحدی چوکی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن غضب للحق کامیابی سے جاری ہے۔
وزیر اطلاعات کے مطابق 5 اپریل شام 5 بجے تک کے اعداد و شمار کے مطابق آپریشن غضب للحق کے دوران افغانستان میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی کل تعداد 796 تک پہنچ چکی ہے جبکہ 1043 دہشت گرد زخمی ہوئے ہیں۔
ترجمان کے مطابق کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں اور افغان رجیم کی 286 چوکیاں تباہ کی جا چکی ہیں جبکہ 44 چوکیوں پر قبضہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 249 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، آرٹلری گنز اور ڈرونز کو تباہ کیا گیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک افغانستان بھر میں دہشت گردوں کے 81 ٹھکانوں اور ان کے سہولت کاروں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…